ٹپس / سٹوریمتحدہ عرب امارات

امارتی انجینئر کی کہانی جو بنا 20 ہزار افراد کا مسیخا

جب مارچ میں تجارتی مراکز بند ہونا شروع ہوئے تو امارتی انجینئر نے مشکلات میں پھنسے افراد کی امداد کا تہیہ کرلیا

( خلیج اردو ) متحدہ عرب امارات میں کویڈ 19 کی وبائی صورتحال میں ایک امارتی کیمیکل انجینئر نے مشکلات میں پھنسے افراد کی امداد کا بیڑا اٹھا اور دیگر دوستوں کو ساتھ ملا کر امداد کرنے کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا جو اب تک 20 ہزار افراد کو مالی امداد فراہم کرچکا ہے ۔

عامر آل یفئی ایک کیمیکل انجینئر ہے جس کی عمر 30 سال ہے کہتا ہے کہ جب مارچ میں تجارتی مراکز بند ہونا شروع ہوئے تو مجھے خیال آیا کہ جن افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے انکی مدد کی جائے ۔ اس بارے میں عامر آل یفئی نے فیس بک گروپ میں اپنے پلان کو دوستوں کے ساتھ شئیر کیا ۔

دوستوں کی جانب سے زبردست پذیرائی ملنے کے بعد عامر آل یفئی نے بتایا کہ ہم نے کام شروع کردیا ۔ فیس بک کے بعد ہم نے ایک واٹس ایپ گروپ بنا لیا جہاں ہمارا ایک دوسرے سے روابط تیز ہوگئے اور امداد کے مستحق افراد کی نشاندہی میں بھی مدد ملی ۔

آج ہمارے واٹس ایپ گروپ میں 2 ہزار سے زیادہ افراد موجود ہے جن کی مدد سے ہم گھریلو اشیاء دوائیاں اور دیگر ضروریات زندگی لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ ہم نے اس مہم کے ذریعے بیشتر افراد کے ٹیکٹ خرید کر انہیں گھروں کو بھی بھجوایا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں بہت سے لوگ مستحق ہیں جن کے پاس اخراجات پورا کرنے کے لئے رقم کی کمی ہے ہم انکی ضروریات کے بارے معلومات حاصل کرکے امداد کرنے والوں کو انکا نام پتہ دیتے ہیں جو انکو براہراست امداد پہنچاتے ہیں۔

عامر آل یفئی نے مزید کہا کہ ہم سے زیادہ لوگ فیس بک کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں اور اپنی ضروریات بتاتے ہیں ۔ ہم ان سے ثبوت مانگتے ہیں جس کے بعد انکے لئے امداد مہیا کرنے کا انتظام کیا جاتا ہے ۔

جیسے کہ متحدہ عرب امارات میں تجارتی سرگرمیاں معمول پر آرہی ہے مگر ہمیں ضرورت کے پیغامات وصول ہونے میں کمی نہیں آئی۔ ہم سے امداد وصول کرنے والے 15 فیصد افراد نے دوبارہ کام کرنا شروع کردیا ہے مگر اب بھی بیت سے ایسے افراد ہیں جنکا کا روزگار ابھی شروع نہیں ہوا ۔

ایک نیپالی خاتون کا کہنا تھا کہ میں بیمار تھی اور میری نوکری بھی چلی گئی تھی جبکہ میرا شوہر بھی بے روزگار ہوگیا تھا جب ہمیں اس مہم کے بارے معلوم ہوا تو ہم نے رابطہ کیا اور اپنی مجبوری اور ضروریات بتا دی ۔جلد ہی ہم سے رابطہ کیا گیا اور ہزار درہم کی امداد ہمیں گھر پر پہنچائی گئی جس سے ہم نے کرایا ادا کیا ۔ نیپالی خاتون نے کہا کہ ضرورت کے وقت بروقت امداد ملنے پر میں عامر آل یفئی کی ہمیشہ شکر گزار رہونگی ۔

عامر آل یفئی نے کہا کہ ہم سوچ رہے ہیں کہ اس مہم کو مستعقل کیا جائے اور اسی طرح رابطہ کرنے پر لوگوں کی امداد کرنا جاری رکھا جائے کیونکہ لوگوں کی مدد کرنے میں دلی سکون ملتا ہے ۔

Source:Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button