(خلیج اردو )سعودی عرب میں شوہر نے جاسوسی کرنے پر بیوی کو طلاق دے دی ۔بیوی شوہر کے واٹس ایپ مسجز کی 9 مہینوں تک چوری سے نگرانی کرتی رہی جس پر شوہر ناراض ہوگیا اور انتہائی قدم اٹھایا ۔
بشرا آل ہوط جو سائبر کرائم اوئیرنس ٹرینر ہے کہتی ہے کہ واٹس ایپ کے ذریعے ڈیٹا ہیک کرنا جدید دور کی آسان ٹیکنیک ہے اس لئے اوپن وائی فائی سے کنکٹ ہوتے ہوئے خیال رکھنا چاہئے ائیر پورٹ کیفے ،اور ہوٹل میں فری وائی فائی سے کنکٹ ہوتے وقت یہ بات ذہین نشین رکھنی چاہئے کہ اس سے موبائل کی پرایویسی ختم ہوجاتی ہے اور آسانی سے موبائل کو ہیک کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے لوگوں کو متنبہ کیا کہ موبائل فون کو غیر تصدیق شدہ وائی فائی سے کنکٹ نہ کریں تاکہ ڈیٹا ہیک ہونے میں پریشانی سے بچا جاسکے ۔
- خالد ابو رشید جو ایک لیگل ایڈوائزر ہے کہتے ہیں کہ بیوی کا شوہر کے موبائل فون کی جاسوسی کرنا اور مسجز نکالنا ایک قانونی جرم ہے جس کی آرٹیکل 3 کے تحت ایک سال جیل اور 50 ہزار سعودی ریال جرمانہ ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی قوانین میں کسی کو اجازت نہیں کہ کسی کے پرسنل موبائل کی جاسوسی کرے یا ڈیٹا لیک کرے ۔انہوں نے مزید کہا کہ شریعت میں بھی یہ ایک جرم ہے ۔
واٹس ایپ ویب ایک ایسا سسٹم ہے کہ موبائل کو کمپوٹر سے کنکٹ کر کے کمپوٹر پر واٹس ایپ استعمال کیا جاتا ہے ۔ جب کمپوٹر پر واٹس ایپ استعمال کیا جاتا ہے تو سارے مسیجز نئے اور پرانے کمپوٹر پر منتعقل ہوجاتے ہیں جس کو جب تک لاگ واٹ نہ کرے تو کمپوٹر پر بغیر پاس ورڈ کے تصدیق کے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔
Source: Gulf News






