دہلی(خلیج اردو): ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں سال دہلی میں ہونے والے مذہبی فسادات میں دہلی پولیس نے انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کیں۔
ایسے وقت میں جب ہندو انتہا پسند ہجوم کی جانب سے عوام کے املاک کو نقصان پہنچایا جارہا تھا اور لوگوں پر قاتلانہ حملے ہورہے تھے، پولیس نے مظاہرہ کرنے والوں پر بیہمانہ تشدد کیا۔
یہ فسادات ہندو وطن پرستوں اور سیکولر نظریات رکھنے والے بھارتوں سمیت مسلمانوں کے درمیان اس وقت پیش آئے جب بھارت میں شہریت سے متعلق متنازع قانون پاس کیا گیا تھا۔
ان فسادات میں 40 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کے ساتھ عوامی املاک کو نقصان بھی پہنچایا گیا اور کہیں پر آگ بھی لگائی گئی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق فروری 2020میں متنازع سیٹیزن امینڈمنٹ ایکٹ کو لے کر رونما ہونے والے فسادات میں پولیس نے ہندو انتہا پسند گروپس کی مدمد کی اور عوام کو پکڑ کر ان پر تشدد کیا تو کہیں بے گناہ افراد کو ٹارچر سیل میں رکھا گیا۔
پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے لیکن ایمنسٹی انڈیا کا دعوی ہے کہ ان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔
حکومت کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق فسادات میں 53 افراد ہلاک ، 500سے زائد زخمی ہوئے۔ پولیس نے 750 سے زائد ایف آئی آر درج کیں اور 200 سے زیادہ چارج شیٹ تیار کیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتار کیا جس میں طلباء اور پروفیسرز سمیت انسانی حقوق کے کارکنان شامل ہیں۔ پولیس نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فسادات کو ہوا دے رہے ہیں۔
اس حوالے سے وزیر داخلہ امیت شاہ نے پولیس کو بری الزمہ قرار دے کر بیان دیا تھا کہ پولیس نے اپنے فرائض سر انجام دیئے۔ پولیس کا دعوی ہے کہ وہ فسادات کی تحقیقات کررہی ہے لیکن اب تک کوئی تحقیقات نہیں ہوئیں۔
ایمنسٹی نے انٹرنیشنل نے عینی شاہدین ، انسانی حقوق کے کارکنان ، قانون نافز کرنے والے حکام ، وکلا ، تعلیمی اداروں سے منسلک افراد سمیت میڈیا اور سوشل میڈیا کا سہارا لے کر مفصل رپورٹ مرتب کی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ پولیس نے انسانی حقوق کے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ دہلی پولیس کے خلاف شفاف اور آزاد انکوئری کی جائے اور زمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
Source BBC







