عالمی خبریں

چھ ہزار گائیوں کو لے جانے والا جہاز سمندر میں ڈوب گیا، عملے کے 40 سے زائد افراد لاپتہ

عملے کے ایک رکن کو ابھی تک تلاش کیا جا سکا ہے۔

 

خلیج اردو آن لائن:

جاپانی ساحل کے محافظ کی جانب سے جعرات کے روز بتایا گیا ہے کہ ایک بحری جہاز نیوزی لیڈ سے چین مویشی لیجاتے ہوئے مشرقی چین کے سمندر میں طوفانی موسم میں پھنس کر ڈوب گیا، جہاز پر سوار عملے کے 40 افراد لاپتہ ہوگئے ہیں۔

لاپتہ ہونے والے افراد میں سے اب تک صرف خلیج لائیو اسٹاک 1 سے تعلق رکھنے والے عملے کے ایک رکن کو بازیاب کرایا گیا ہے۔ کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ لاپتہ افراد کی تلاش میں تین جہاز، چار ہوائی جہاز اور دو غوطہ خور حصہ لے رہے ہیں۔

جب ٹائفون میساک نے  آندھی اور تیز سمندری ہواؤں سے اس علاقے کو نشانہ بنایا تو تقریبا 6 ہزار مویشیوں پر مشتمل جہاز نے بدھ کے روز جنوب مغربی جاپان کے جزیرے عمامی اوشیما سے ایک پریشان کن پیغام بھیجا۔

جاپان کےکوسٹ گارڈ کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ فلپائن کے ایک 45 سالہ چیف آفیسر سرینو ایڈوارڈو کو بدھ کی رات بچایا گیا تھا۔ اور ابھی تک زندہ بچایا جانے والا وہ واحد شخص ہے۔

مزید برآں، کوسٹ گارڈ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کچھ مویشیوں کی لاشیں بھی برآمد ہوچکی ہیں۔

کوسٹ گارڈ کی جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق اس جہاز میں فلپائن کے 39 افراد، دو نیوزی لینڈ سے اور دو آسٹریلوی باشندے عملے کا حصہ تھے۔

کوسٹ گارڈ کی ترجمان خاتون نے بتایا کہ ریسکیو کیئے گئے شخص ایڈوارڈو کے مطابق سمندری طوفان کی زد میں آنے سے پہلے جہاز اپنا ایک انجن کھو چکا تھا۔ ایڈوارڈو نے مزید بتایا کہ جب جہاز الٹ گیا تو تمام عملے کو لائف جیکٹس پہننے کا حکم دیا گیا۔ جس کے بعد اس نے سمندر میں چھلانگ لگا دی اور اپنے عملے کے ارکان میں سے کسی کو نہیں دیکھا۔

فلپائنی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ عملے کی تلاش کے لیے جاپانی کوسٹ گارڈ کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔

نیوزی لینڈ سے چین بھیجی جانے والی گائیوں کی فی کسی قیمت 20 ہزار یوان بتای جاتی ہے۔ مزید برآں، اس وقت مویشیوں کی سمندری راستے سے تجارت کے حوالے سے ایک بحث شروع ہوگئی ہے۔ نیوزی لینڈ کی جانوروں کے حقوق سے متعلق تنظیم کا کہنا ہے اس تباہی سے زندہ مویشیوں کی تجارت میں شامل خطرات کی نشاندہی ہوتی ہے۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button