(خلیج اردو ) متحدہ عرب امارات میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی آباد ہیں جو محنت مشقت کرکے اپنی خاندان کی کفالت کررہے ہیں ۔ ان پاکستانیوں میں بڑی تعداد سخت کام کاج کرنے والے ہیں جبکہ ان میں 5 فیصد تک اچھے نوکریوں پر فائز ہیں ۔
متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے پاکستانی نہ صرف یہاں پر کام کرکے اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں بلکہ پاکستان رقم بھیج کر کاروبار شروع کرنے کا انتظام بھی کرتے ہیں ۔
عجمان میں کام کرنے والے محمد صدام بتاتے ہیں کہ انہوں نے 15 سال پہلے متحدہ عرب امارات کام۔حاصل کیا اور میری 12 سو درہم تنخواہ تھی ۔ میری تنخواہ آج 7 ہزار درہم ہے اور مینے پاکستان میں زرعی زمین بھی خریدی ہے اور خاندان کی کفالت بھی اچھی طرح کی ہے جو شاید میں پاکستان میں نوکری کرتے ہوئے نہیں کرسکتا تھا ۔ صدام متحدہ عرب امارات کی حکومت سے بہت خوش تھا اور کہا کہ یہاں ہم کام تو کرتے ہیں مگر عزت اور وسائل بنانے کا موقع ملا ہے ۔
اردیس اقبال پاک آرمی سے ریٹائرڈ ہوکر دبئی آئے اور یہاں ایک سیکورٹی کمپنی میں کام شروع کیا ۔ ادریس نے بتایا کہ آرمی میں نوکری کی ہے مگر جو وسائل یہاں بنائے وہ وہاں ملک میں ممکن نہ تھی ۔ اس نے کہا کہ وہاں ساری تنخواہ اور سروس فنڈ ضرب ہوگیا اور معلوم بھی نہ ہوا ۔ تمام سروس میں صرف بیٹیوں کی شادی کی جبکہ گھر بھی نہ بنا سکا ۔جبکہ یہاں 5 سال کام کرنے کے بعد نہ صرف گھر بنایا بلکہ اپنی زمین پر ایک مارکیٹ کا مالک بھی بن چکا ہوں ۔ میں متحدہ عرب امارات حکومت کا بہت شکر گزار ہوں :ادریس نے کہا ۔
صائمہ ملک جو دبئی میں ایک پرائیویٹ دفتر میں کام کرتی ہے بتاتی ہے کہ مینے ایم بی اے کیا ہے اور پاکستان میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد شادی کرلی ۔ شادی کامیاب نہ ہوسکی اور 4 سال بعد طلاق ہوگئی ۔ میں نے پاکستان سے جاب کے لئے اپلائی کیا اور مجھے نوکری مل گئی ۔ میرے والد نے مجھ پر اعتماد کیا اور مین یہاں آگئی ۔ آج 5 سال کے بعد میں اسسٹنٹ منیجر ہوں اور میں نے ایک بھائی کو بھی نوکری پر لگایا ہے ۔ میں بھائی کے ساتھ رہتی ہوں اور دوسری شادی نہیں کی۔ صائمہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں کام کرنے کا اپنا ایک مزہ ہے اور مصروف زندگی ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ کاش میں نے شادی نہ کی ہوتی اور یہاں آچکی ہوتی کیونکہ یہاں مجھے عزت بھی ملی ہے اور پیسہ بھی ملا ہے ۔
راشد سلطان فجیرہ میں کام کرتا ہے اور کہتا ہے کہ گھر سے دور ہونے یر اداسی ہوتی ہے مگر جب خاندان کی کفالت اچھے سے ہوتی ہے تو دل ہی دل میں خوش ہوکر سوچتا ہوں کیا ہوا کہ گھر سے دور ہوں ۔جو وسائل یہاں بنائے ہیں وہ پاکستان میں کہاں ممکن تھے ۔
طفیل احمد اپنی ٹیکسی چلاتا ہے اور بیان کرتا ہے کہ یہاں کی ایک ٹیکسی پر میں اتنی مزدوری کرتا ہوں کہ پاکستان میں 3 گاڑیاں چلا کر بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ میں نے اپنی خاندانی زمین بھیج کر ویزہ کیا تھا اور سالوں گزرنے کے بعد میں نے اس سے تین گنا زیادہ زمین اپنے نام کی ہے ۔ اس نے کہا میں آج خوش ہوں کیونکہ مینے مشکل فیصلہ کیا اور پھر ہمت سے اپنے کئے فیصلے پر قائم رہا ۔
پاکستان کی نسبت متحدہ عرب امارات میں روزگار کے اصول بہت زیادہ فائدہ مند ہیں یہاں کام کی اجرت اتنی ہے کہ خاندان کی کفالت بھی اچھے سے ہوتی ہے اور اتنے وسائل بن جاتے ہیں کہ پاکستان میں اچھی زندگی گزاری جاسکتی ہے ۔
ہم نے جتنے افراد سے بات کی سب متحدہ عرب امارات کے حکومت سے بہت خوش تھے کہ یہاں کام کرنے کا ایک اصول ہے جس سے وسائل بھی بنتے ہیں اور وقت بھی اچھے سے گزرتا ہے ۔
متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی علاقے کے حساب سے اپنی تنظیمیں ہیں جو اپنی کمیونٹی کے لوگوں سے خبردار رہتے ہیں ۔ یہاں کسی علاقے کے فرد کی اگر فوتگی ہوتی ہے تو علاقے کے لوگ مل کر میت لیجانے اور رقوم کا بندوبست کرتے ہیں ۔ یہاں اگر کسی کو کوئی مسلہ ہوتا ہے تو تنخواہوں سے پیسے دیکر اسکی مدد کی جاتی ہے ۔ یہاں اگر کوئی نیا بندہ آئے تو سب جاننے والے اور علاقے کے لوگ اس سے ملنے آتے ہیں اور اپنی استدعا کے مطابق اس کو پیسے دیتے ہیں تاکہ ایک اچھا ماحول قائم رہے اور کوئی دکھ اور پریشانی محسوس نہ کریں ۔
یہاں پاکستانی محفل موسیقی اور کھانے پینے کے تقریبات کا اہتمام بھی کرتے ہیں ۔چھٹی کے دن ایک دوسرے سے ملنے کا دستور بھی یہاں قائم ہے ۔یہاں لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اچھا وقت گزارا جائے اور خوشیاں ایک دوسرے کے دہلیز پر سجائے ۔






