
خلیج اردو آن لائن:
ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی سنوفی کے فرانس کے چیف نے اتوار کے روز بتایا کہ سنوفی کورونا کی جو ویکسین برطانیہ کی کمپنی گلیکسو سمتھ کلائن کے ساتھ مل کر بنا رہی ہے اگر اس ویکسین کو استعمال کی اجازت مل جاتی ہے تو اس کی ایک خوراک کی قیمت 10 یورو سے کم یعنی 43 درہم ہوگی۔
سنوفی کے فرانس میں چیف اولیور بوگیلوٹ نے فرانس انٹر ریڈیو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ”قیمت مکمل طور پر طے نہیں کی گئی، تاہم ہم آنے والے مہینوں کے لیے پیداواری لاگت کا تعین کر رہے ہیں، اور ہماری ویکسین کی قیمت 10 یورو سے کم ہوگی”۔
بوگیلوٹ سے جب انکی مسابقتی کمپنی آسٹر زینیکا کے بارے پوچھا گیا، جس کی قیمت یورپ میں 2 اشاریہ 5 یورو متوقع ہے، تو انکا کہنا تھا کہ” ہمارے لیے قیمت کا فرق اس لیے بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ہم نے اس کو بنانے کے لیے تمام محقیقن اور تحقیقی مراکز اپنے استعمال کیئے ہیں، جبکہ آسٹرازینیکا نے اپنی پیداوار کا بیشتر حصہ دیگر کمپنیوں کو دیا ہے”۔
مزید برآں، سنوفی کی ترجمان خاتون نے اتوار کے روز ایمیل کے ذریعے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ویکیسن کی قیمت اس کے تجربات کی آخری اسٹیج پر پہنچنے کے بعد طے کی جائے گی۔ اور ” 10 یورو سے کم قیمت ایک مفروضہ ہے جس پر ابھی ہم کام کر رہے ہیں”۔
خیال رہے کہ اس ہفتے کے آغاز میں سنوفی اور جی ایس کے کا کہنا تھا کہ وہ پروٹین کی حامل ویکیسن کے کلینکل ٹرائلز شروع کر چکے ہیں۔ اور انہیں امید ہے کہ وہ دسمبر تک تجربات کے حتمی مرحلے تک پہنچ جائیں گے۔
اور اگر ویکسین کے نتائج مثبت آتے ہیں تو اگلے سال کے ابتدا میں اس ویکسین کو استعمال کے لیے منظور کیے جانے کی امید کی جا رہی ہے۔
مزید برآں، سنوفی ایک امریکی کمپنی ٹرانسلیٹ بائیو کے ساتھ مل ایک اور ویکسین پر کام کر رہی ہے۔ جس میں میسنجر آر این اے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔
Source: Khaleej Times







