
(خلیج اردو ) پاکستان میں بچیوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اور پچھلے 6 مہینوں میں درجن سے زیادہ بچیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا مگر حکومت نے ان واقعات کی روک تھام کے لئے کوئی حاص کاروائی نہیں کی جس کی وجہ سے ان واقعات کا سدباب ممکن نہ ہوسکا اور کراچی میں گزشتہ روز ایک اور 5 سالہ بچی کو جنسی زیادتی کے بعد سر پر بھاری چیز مار کر قتل کردیا گیا اور لاش کو آگ لگا دی گئی ۔
معصوم بچی کی لاش کراچی کے علاقے عیسیٰ نگری کی کچرا کنڈی سے ملی تھی ۔ ڈاکٹری رپورٹ میں 5 سالہ بچی مروہ سے زیادتی کی تصدیق ہو گئی ۔
میڈیکل لیگل آفیسر جناح اسپتال کا کہنا ہے کہ بچی کو زیادتی کے بعد بھاری چیز سر پر مار کر قتل کیا گیا، مزید تفتیش کیلئے بچی کے جسم سے نمونے لیے گئے ہیں۔
دوسری جانب پولیس نے لاش ملنے کے مقام سے 16افراد کو حراست میں لے لیا ہے، تمام افراد کا ڈی این اے کرایا جائے گا، اس سے قبل تفتیشی پولیس پہلے ہی کیس میں 2 افراد کو حراست میں لے چکی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز عیسیٰ نگری میں ایک خالی پلاٹ پر کچرا کنڈی سے ایک 5 سالہ کی بچی کی بوری بند لاش برآمد ہوئی تھی، علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ بچی کی لاش کی حالت انتہائی خراب تھی اور بظاہر لگتا ہےکہ بچی کو جلایا گیا ہے۔
بچی کی شناخت 5 سالہ مروہ کے نام سے ہوئی جس کی گمشدگی کا مقدمہ اس کے والد عمر صادق کی مدعیت میں پی آئی بی کالونی میں درج ہے۔ بچی کے والد عمر صادق کے مطابق مروہ ہفتے کی صبح گھر سے چیز لینے کے لیے نکلی اور لاپتہ ہو گئی تھی۔
5 سالہ مردہ کے والدین کا تعلق خیبر پختون خواہ کے علاوہ بونیر سے بتایا جاتا ہے جنہوں نے حکومت وقت سے اپیل کی ہے کہ ان کی پھول جیسی بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والے افراد کو سزائے موت دی جائے ۔
یاد رہے کہ قصور میں عمرے پر گئے والدین کی غیر موجودگی معصوم بچی زینب کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل پر ایک کہرام مچایا گیا تھا مگر آج بھی وفاقی حکومت بچوں کو تحفظ دینے کے بل کو اسمبلی سے پاس نہ کرا سکی اور نہ ہی سخت سزائیں دے کر مجرموں کو عبرت کا نشان بنایا گیا ۔
گزشتہ سال خیبر پختون خواہ کے ضلع مردان میں بھی ایک بچی کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی اور بعد میں گنے کی کھیت سے اس کی لاش برآمد ہوئی ۔ ایسی طرح خیبر پختون خواہ کے ضلع نوشہرہ میں چھوٹی بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا مگر حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی اور آج بھی ایسے واقعات رپورٹ ہورہے ہیں ۔
بچوں کے تحفظ کی عالمی تنظیمیں ہزار بار حکومت کو سخت اقدام اٹھانے کے لئے دباو کا شکار کرتی رہی مگر ایسا ممکن نہ ہوا جس کی وجہ سے معصوم بچے جنسی زیادتی کا شکار ہورہے ہیں ۔
ایک واقع میں اسلام آباد سے ایک سرکاری افرد پکڑا گیا جو بچوں سے زیادتی کے ویڈیو بنا کر ڈارک ویب پر فروخت کرتا تھا مگر حکومت نے اس کے خلاف بھی کوئی مثالی ایکشن نہیں لیا ۔
Source: Pakistan Media






