
(خلیج اردو ) انسداد کرونا ویکسین دنیا بھر میں تقسیم کرنے کے لئے 8 ہزار بوئنگ طیارے استعمال کئے جائینگے۔ انٹرنیشل ائیر ٹرانسپورٹ ایسوسیشن نے کہا ہے بوئنگ 747طیارے کرونا وائرس ویکسین کو دنیا بھر میں تقسیم کرنے کے لئے موزوں ہونگے کیونکہ کرونا وئراس ویکسین کو لے جانے کے لئے ایک خاص درجہ خرارت درکار ہوگا جو بوئنگ 747 میں ہی دستیاب ہوگا ۔
دنیا بھر کے 8۔7 بلین افراد کو کرونا وائرس باحفاظت پہنچانا ایک اہم چیلنج ہوگا جس کے لئے ابھی سے انتظامات شروع کئے جارہے ہیں ۔ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے 140 سے قریب ویکسن تیار کئے جارہے ہیں جن میں سے درجنوں ویکسین ٹرائل کے لئے آزمائے جارہے ہیں جبکہ باقی ابھی آزمائش کے سٹیج تک نہیں پہنچے ۔
ائیر ٹرانسپورٹ سیکٹر ویکسن کا باحفاظت دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے حکمت عملی تیار کررہی یے کیونکہ عام پسنجر طیاروں میں ویکسن منتعقل کرنا انتہائی مشکل کام ہوگا ۔
کرونا ویکسین کو خراب ہونے سے بچانے کے لئے خاص درجہ خرارت کی ضرورت ہوتی ہے اور تمام جہاز ویکسن کو منتعقل کرنے کے لئے موزوں نہیں ہوتے کیونکہ 2 سے 8 سنٹی گریڈ کی درجہ خرارت میں ہی انسداد کرونا ویکسین کو خراب ہونے بچا کر ٹھیک حالت میں منتعقل کیا جاسکتا ہے ۔ بعض ویکسین کو تو مائنس زیرو درجہ خرارت درکار ہوگی جس سے بیشتر ہوائی جہاز کرونا وائرس ویکسن کی ترسیل کی لسٹ سے باہر ہوجاتے ہیں ۔
بعض ممالک جن میں مشرقی اشیاء کے ممالک شامل ہے وہاں کویڈ 19 ویکسین پہنچانا ایک بڑا چیلنج سے ہوگا کیونکہ ان ممالک میں ویکسن بنانے کے اوپر زیادہ کام ہیں ہورہا اور انکا دارومدار مغربی ممالک پر ہی ہوگا جبکہ افریقی ممالک میں بھی ویکسن کی ترسیل مشکل ہوگی کیونکہ وہاں سیکورٹی مسائل ہونگے اور بارڈر کراسنگ کے لئے افواج کی مرضی ضرور لینی ہوگی ۔
ایئر ٹرانسپورٹ سیکٹر کا مزید کہنا تھا کہ حکومتوں کو ابھی سے ویکسین کی وصولی کے طریقہ کار کو طے کرنا ہوگا کیونکہ ایک خاص درجہ خرارت میں ویکسین کی ترسیل مسلہ ہوگا اور جہاں سیکورٹی کی صورت حال ٹھیک نہیں وہاں زیادہ انتظامات کتنا ہونگے ۔
Source: Khaleej Times







