عالمی خبریں

دو ہاتھیوں کی جنگ ، امریکہ نے چینی طلباء اور ریسرچرز کے ویزے منسوخ کر دیئے،سنگین الزام عائد

خلیج اردو
10 ستمبر 2020
واشنگٹن: امریکہ نے 1000 چینی طلباء کے ویزہ منسوخ کرتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ چینی آرمی یا خفیہ اداروں کیلئے کرتے ہوئے امریکہ میں مختلف حوالوں سے جاسوسی کررہے تھے۔

امریکہ میں داخلی سلامتی کے محکمہ کے قائمقام سیکرٹری چڈ وولف نے ایک بیان میں چینی طلباء پر اسٹوڈنٹ ویزوں کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے بدھ کے روز کہا ہے کہ کچھ چینی گریجویٹ اور محقیقین کے ویزے اس بنیاد پر منسوخ کررہے ہیں کیونکہ وہ حساس معلومات تک رسائی کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ طلباء اور ریسرچرز حقوق دانش کی پامالی کرتے ہوئے چینی فوج کیلئے حساس معلومات جمع کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

اس اقدام کو امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان سے جڑا جارہا ہے جو انہون نے جون میں دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم چینی طلباء کو دیکھ رہے ہیں جو چینی فوج کیلئے کام کرتے ہیں اور امریکہ نظام تعلیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حساس معلومات چوری کرنے میں ملوث ہیں۔ یہ طلباء سرکہ بازی اور حقوق دانش کےچوری میں بھی ملوث ہیں۔

گزشتہ ماہ ایک ریڈیو سے گفتگو میں وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے واضح کیا تھا کہ ہر چینی طالب علم چینی کمیونسٹ پارٹی کا حمایت کرنے والا نہیں تاہم چینی طلباء پر نگاہ رکھنی کی ٹرمپ نے سخت تاکید کی ہے۔

بدھ کے روز محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ 1000 چینی طلباء کے ویزے کینسل کر دیئے گئے ہیں۔ تاہم ترجمان محکمہ خارجہ نے تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کرتے ہوئے اسے خفیہ قوانین کے مطابق اقدام قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کے جون میں دیئے گئے ہدایات کی روشنی میں معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تعلیمی سال 2018 سے 2019 کے اعدادوشمارکے مطابق امریکہ میں کسی بھی غیر ملکی طلباء کے مقابلے میں 3 لاکھ 70 ہزار کی کثیر تعداد چینی طلباء کی تھی جو یہاں زیر تعلیم ہیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ چینی طلباء کو امریکہ میں تعلیم کیلئے خوش آمدید کہتے ہیں تاہم چیبنی کمیونسٹ پارٹی کے فوجی مقاصد کیلئے کام کرنے والوں کیلئے امریکہ میں کوئی جگہ نہیں۔

امریکہ کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم کچھ طلباء نے خبر رساں ادارے دی گاڑین کو بتایا کہ انہیں متعلقہ احکامات سے ای میل کرکے اگاہ کیا گیا ہے۔

امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں تناؤ نے دیگر شعبوں کو بھی متائثر کیا ہے جس میں مختلف کاروباری پابندیاں ، کمپنیوں پر ٹیرف میں اضافی یا ایک دوسرے کے مصنوعات کا ریاستی سطح پر بائیکاٹ شامل ہے۔

Source : The Guardian

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button