
خلیج اردو
10 ستمبر 2020
اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کے سنیئر سفارتکار کو دفتر خارجہ بلا کر سخت احتجاج ریکارڈ کیا ہے۔
ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسلام آباد میں موجود بھارت کے سنیئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کرکے 8 ستمبر کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان نے اس بھارتی اقدام کی مذمت کی جس میں بھارتی افواج نے لائن آف کنٹرول کے بیدوری سیکٹر پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا۔ بھارتی فائرنگ سے 27 سالہ محمد آفتاب ، 40 سالہ طاہر اقبال اور 57 سالہ محمد الطاف شدید زخمی ہوئے تھے۔
ترجمان نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی افواج لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر بھاری ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کرتی ہے۔ اس سال بھارت نے 2199 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں جس کے نتیجے میں 17 شہادتیں ہوئیں اور 171 شہری شدید زخمی ہوئے۔
لائن آف کنٹرول پر نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے بھارتی سفارت کار کو بتایا گیا کہ ایسے بزدلانہ کارروائیاں 2003 کے جنگ بندی معاہدے اور عالمی قوانین سمیت ہر قسم کے انسانی اقدار کے خلاف ہیں۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ انسانی حقوق کی متواتر پامالیاں پیشہ ورانہ فوجی رویات کی خلاف ورزی ہے اور یوں اشتعال انگیز رویہ خطے میں امن کیلئے خطرہ ہے۔
پاکستان نے احتجاج کے دوران بتایا کہ بھارت کا جارحانہ رویہ علاقائی سلامتی اور دونوں ممالک کے امن کیلئے خطرہ ہے۔ بھارت ایسی کارروائیوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی سرپرستی مین ڈھائے جانے والے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضے سے عالمی دنیا کی توجہ ہٹانے کی مزموم کوشش کررہا ہے۔
بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے 8 ستمبر کے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کریں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دیں۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی بھارت اور پاکستان کیلئے موجود فوجی مبصر گروپ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردودوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
قبل ازیں میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا تھا کہ بھارت مسلسل اپنی عالمی ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار کئے ہوئے ہے اور اس کی پالیسیاں چین اور پاکستان سمیت تمام ہمسایوں کے لیے خطرہ ہے۔






