خلیج اردو
24 ستمبر2020
راولپنڈی: پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پاکستان میں تعینات مختلف ملکوں کے سفارتکاروں، دفاعی اتاشیوں اور عالمی اداروں کے نمائندوں کو لائن آف کنٹرول کا دورہ کرایا ہے جہاں انہوں نے ایل او سی کے جوڑا سیکٹر میں انہیں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال بھارت کی جانب سے 2333 مرتبہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔بھارتی بلااشتعال فائرنگ کے واقعات میں رواں سال اٹھارہ شہری شہید اور ایک سو پچاسی شہری زخمی ہوئے ۔
پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل بابر نے بتایا کہ بھارتی فوج دانستہ طور پر بھار ی ہتھیاروں سے شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہےجو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہاکہ پیشہ وارانہ فوج ہونے کی حیثیت سے بھارتی فائرنگ کے جواب میں پاک آرمی کی جانب سےصرف فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ بھارت اشتعال انگزی بڑھانے کے لئے شہری آبادی کو بلااشتعال فائرنگ سے نشانہ بنارہاہے جو مقبوضہ وادی میں ظلم و ستم سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ۔
میجر جنرل بابر افتخار نے کہاکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کررہاہے ۔ بھارت نے دو ہزار چودہ سے ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بڑھا دی ہیں ۔ بھارت نے تیس اور اکتیس جولائی کو نیلم ویلی پر معصوم شہریوں پر کلسٹر ایمونیشن استعمال کیا ۔عالمی ادارے بالخصوص یواین ایچ آر اپنی متعدد رپورٹس میں بھارتی ظلم و ستم کو اجاگر کرچکاہے ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونے کی شدید ضرورت ہے۔
سفارتکاروں کے وفد نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کاخودجائزہ لیا اوران خلاف ورزیوں کے متاثرین سے ملاقات بھی کی ۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کے پاکستان اور بھارت کے لئے فوجی مبصر گروپ ، بین الاقوامی میڈیا اور سفارتکاروں کی لائن آف کنٹرول کے کسی بھی علاقے کے دورے کا ہمیشہ خیرمقدم کیا ہے اور انہیں مقامی آبادی تک
رسائی دی ہے کہ وہ زمینی صورتحال کا خود جائزہ لے ۔
اس کے برعکس بھارت نے کسی کو بھی کبھی لائن آف کنٹرول کے دورے کیلئے رسائی نہیں دی۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو بھی بھارت نے کبھی اجازت نہیں دی۔ بھارت نے صحافیوں اور عالمی میڈیا کے ارکان کو کشمیر کی صورتحال کی کوریج کرنے پر حراست میں لیا ہے۔
ایل او سی کا دورہ کرنے والی وفد میں آزربائیجان، بوسنیا اور ہرزوگوینا ، یورپی یونین، پرتگال، سعودی عرب ، جنوبی افریقہ، ترکی ، یونان، آسٹریلیا، ایران ، عراق، برطانیہ ، پولینڈ ، ازبکستان ، جرمنی کے سفارتکار اور نمائندے شامل ہیں۔ سوئٹزرلینڈ، فرانس ، مصر، لیبیا ، یمن اور افغانستان کے سفارتکار جبکہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ورلڈ فوڈ پروگرام کے نمائندے بھی ایل او سی کا دورہ کر رہے ہیں۔






