خلیج اردو آن لائن:
گزشتہ روز بھارت کے دارالحکومت دہلی میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے لیے کسانوں کی جانب سے ٹریکٹر ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس کے دوران کسانوں اور پولیس کے درمیان متشدد واقعات پیش آئے۔
جس کے بعد آج لال قلعے اور دہلی ہریانہ بارڈر پر سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
احتجاج میں شریک وزیر سنگھ نامی ایک کسان کا نے نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انکی ٹریکٹر ریلی کامیاب رہی، اور وہ اب اپنے گھر تب ہی جائے گا جب حکومت فارم لاء واپس لے گی۔
خیال رہے کہ بھارت میں کسان گزشتہ 2 مہینوں سے فارم لاء کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
گزشتہ روز ٹریکٹر ریلی کے دوران متعدد کسان لال قلعے کی دیواریں پھلانگ کر لال قلعے میں داخل ہوگئے تھے اور وہاں پر لگے جھنٹے بھی اتار دیے تھے۔
دہلی پولیس نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ کسانوں دہلی میں داخل ہونے کے لیے رکاوٹٰیں توڑ دیں، اور شہر بھر میں مختلف مقات پر توڑ پھوڑ بھی کی، اور پرتشدد واقعات میں 100 پولیس اہلکار کار زخمی ہوئے ہیں۔
اب تک احتجاج کرنے والے کسانوں کے خلاف 22 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں۔
دہلی پولیس کی جانب سے ایک سی سی ٹی وی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے ایک ٹریکٹر رکاوٹ سے ٹکرانے کے بعد الٹ جاتا اس حادثے میں ایک کسان ہلاک ہو گیا تھا۔
Source: Khaleej Times







