عالمی خبریں

دنیا کا پہلا ایسا قانون جس کے تحت حمل ضائع ہونے پر بھی خواتین کو با معاؤضہ چھٹی دی جائے گی

 

خلیج اردو آن لائن:

نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قانون سازی کی ہے جس میں نوکری کرنے والی ماؤں اور ان کے شوہروں کو اسقاط حمل یا پھر مردہ پیدا ہونے والے بچے  کے بعد تنخواہ کےساتھ چھٹی کا حق دیا گیا ہے۔ اس قانون کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی دفعات میں سے ایک ہے۔

یہ قانون نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کی جانب سے بدھ کے روز پاس کیا گیا ہے۔ جسے سوگ کے الاؤنس کا نام دیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت مردہ بچہ پیدا ہونے کی صورت میں میاں بیوی کو تین دن کی چھٹی دی جائے گی، بجائے اس کے کہ وہ اپنی بیماری کی چھٹٰیوں کا استعمال کریں۔

قانون ساز جنی اینڈرسن کا کہنا تھا کہ مردہ بچے کی پیدائش کو باقاعدہ سوگ کی چھٹی دی جانی چاہیے۔ لیکن اس عمل کے ساتھ ایک کلنک ابھی بھی جڑا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سارے لوگ اس بارے میں بات نہیں کرتے تھے۔

انہوں نےپارلیمنٹ کو بتایا کہ "حمل کا ضائع ہونا کوئی بیماری نہیں ہے۔ بلکہ یہ نقصان ہے اور اس نقصان کے دکھ سے باہر آنے میں وقت لگتا ہے”۔

اینڈرسن نےبتایا کہ اگر خاتون کا حمل ضائع ہوتا ہے تو اس چھٹی کا اطلاع اس کے شوہر پر بھی ہوتا ہے۔ اور ان افراد پر بھی ہوتا ہے جو سروگیسی کے ذریعے بچہ حاصل کرنے کی کوشش رہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ اس قانون کےپاس کرنے سے نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ ایک باری خواتین کی حقوق کے تحفظ میں سب سے آگے ہے۔ اور وہ امید کرتی ہیں کہ باقی ممالک بھی ایسی قانونی سازی کریں گے۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button