عالمی خبریں

کرونا وائرس کی ویکسین فائزر اب بچوں کو بھی لگائی جائے گی

خلیج اردو
11 مئی 2021
واشنگٹن : امریکی فوڈ اور ڈرگ ایڈمنسٹریشن ایف ڈی اے نے پیر کے روز 12 سے 15 سال کے بچوں تک کرونا وائرس کی ویکسین فائزر کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ یہ توسیع ایک بہت بڑی پیش رفت ہے جو وائرس کے خلاف ہماری لڑائی میں کردار ادا کرے گا۔

اس سے قبل ایف ڈی اے نے فائزر ویکسین کو 16 سال اور اس سے زیادہ افراد کیلئے منظوری دی تھی۔

ایف ڈی اے کے سینٹر برائے بائلوجکس ایویلیویشن اینڈ ریسرچ کے ڈائریکٹر پیٹر مارکس نے کہا ہے کہ نوجوانوں کیلئے ایک ویکسین کا انعقاد کروبا وائرس کے وبائی امراض کی وجہ سے عوام میں صحت عامہ کے بے تحاشا بوجھ کو کم کرنے کے اقدام کو جاری رکھنا ہے۔

ایف ڈی اے نے کہا کہ یکم مارچ ، 2020 اور 30 ​​اپریل 2021 کے درمیانی عرصہ میں امریکی مراکز برائے امراض قابو پانے اور روک تھام کیلئے 11 سے 17 سال کی عمر کے افراد میں تقریبا 15 لاکھ کرونا وائرس کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

مشاہدے میں آیا ہے کہ کرونا وائرس جب کم عمر لوگوں یا بچوں کو لاحق ہوتا ہے تو ان میں ہلکا پھلکا ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسے نظرانداز کیا جائے کیونکہ وہ اسے زیادہ عمر والے اور زیادہ کمزور بڑوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

فائزر اور اس کے شراکت دار بائیوٹیک نے مارچ میں بتایا تھا کہ ان کی دو خوراک کی ویکسین 12 سے 15 سال عمر کے 2260 بچوں پر ٹرائل میں اس ویکسین کو محفوظ اور موثر پایا گیا ہے۔

بائیڈن نے گذشتہ ہفتے 12 سے 15 سال کی عمر کے بچوں تک کرونا ویکسین کی توسیع کی اہمیت پر زور دے کر کہا تھا کہ اجازت ملنے کے بعد حکام فوری طور پر عمل درآمد کیلئے تیار ہیں۔

بائیڈن نے بتایا تھا کہ ملک میں 20 ہزار فارمیسیز ان نوعمر بچوں کو ویکسین دینے کیلئے تیار ہیں۔ یہ ویکسین کتنی مقدار میں ہونی چاہیئے اور کیا شرح ہو ، یہ تفصیل بچوں کے ماہرین کو بھجوا دیئے ہیں۔

موڈرنہ اور جانسن اینڈ جانسن کی کرونا ویکسینوں کو بھی ایف ڈی اے کی جانب سے ہنگامی طور پر استعمال کی اجازت مل گئی ہے لیکن یہ صرف 18 سال سے زیادہ عمر کے افراد کیلئے ہے۔

قائم مقام ایف ڈی اے کمشنر جینیٹ ووڈکاک نے اس ہئشرفت کو کرونا وائرس وبائی امراض کے خلاف جنگ کا ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

ووڈکاک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج کے اس عمل سے نوجوان آبادی کو کرونا وائرس سے محفوظ ہونے کا موقع ملتا ہے جو ہمیں معمول کے احساس پر واپس آنے اور وبائی بیماری کا خاتمہ کرنے کے قریب تر رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ والدین کو یقین دلاتے ہیں کہ تمام دستیاب ڈیٹا کی بنیاد پر تسلی بخش نتائج کے بعد ہم کم عمر نوجوانوں کیلئے اس کی منظوری دے رہے ہیں۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button