
خلیج اردو: توانائی و پٹرولیم امور کی وزارت توانائی و انفراسٹرکچر کے انڈر سیکریٹری شریف العلماء نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات ماحولیاتی تحفظ کے وعدوں کے مطابق متوازن توانائی کے مکس کو حاصل کرنے کے لئے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اپنے ہائیڈروجن سے متعلق منصوبوں پر عمل درآمد میں پیشرفت کر رہا ہے۔ گرین ہائیڈروجن پر ہیمبرگ کے ساتھ ورچول گول میز میں متحدہ عرب امارات کے نمائندے کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے شریف العلماء نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی کوششیں 30 سے زیادہ ممالک تی پھیل گئی ہیں ۔ متحدہ عرب امارات نے ان ملکوں میں پیداواری صلاحیت کے حامل توانائی کے ذرائع سے 10 گیگا واٹ سے زیادہ کی توانائی پیدا کرنے کیلئے 20 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ توانائی کے ذریعے کے طور پر اپنانے کی عالمی کوششوں کی وجہ سے ہائیڈروجن اگلی نسل کا مستقبل کا توانائی کا ذریعہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا دور ہائیڈروجن کی لاگت کو کم کرنے، اس کی پیداوار کے نتیجے میں کاربن کے اخراج کو محدود کرنے پر توجہ دے گا ۔ انھوں نے کہا کہ حفاظت کے ایک توانائی وسیلہ کے طور پر اس کے عالمی استعمال میں آسانی ہے۔ شریف العلماء نے کہا کہ نو ممالک کی ہائیڈروجن حکمت عملی کے مطابق 2030 تک ہائیڈروجن کی کل طلب 330 سے 380 ٹیراوواٹ تک پہنچ جائے گی اور سن 2050 میں فی گھنٹہ 870 سے 1,600ٹیرواٹس تک پہنچ جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں ہم توانائی کے ان تمام وسائل کے لئے کھلے ہیں جو ہمارے قدرتی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور متحدہ عرب امارات کی پائیدار ترقی اور گرین کانومی کی مدد کے لئے اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور توانائی کے تمام وسائل کے مابین توازن برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔ اس تناظر میں نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے متحدہ عرب امارات کی پہلی قومی توانائی حکمت عملی 2050 کا آغاز کیا جس کا مقصد افراد اور کارپوریٹس کی کھپت کی استعداد کار کو 40 فیصد بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے استحکام اور معاشی ضروریات اور ماحولیاتی مقاصد کے مابین توازن برقرار رکھنے کے لئے کل توانائی کے مکسچر میں صاف توانائی کی شراکت 50 فیصد ہے






