
خلیج اردو: ابوظبی کی مستقبل کی توانائی کی کمپنی مصدر آرمینیا میں 174ملین ڈالر مالیت کے یوٹیلٹی سکیل شمسی توانائی کے منصوبے کی تعمیر کا ٹینڈر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
آرمینیائی حکومت نے دسمبر 2019 میں مصدرکی ابتدائی پیش کش 0,0299/کلو واٹ کے بعد ایک بین الاقوامی ٹینڈر نافذ کیا تھا۔ مسابقتی عمل کے بعد مصدرنے حتمی قیمت 02900,/ کلو واٹ فی گھنٹہ جمع کروائی ہے۔ 200 میگا واٹ پلانٹ آرمینیا کی تالین اور دشتیڈیم کمیونٹیز میں واقع ہوگا۔
یہ دونوں ایسے علاقے ہیں جہاں شمسی توانائی کی صلاحیت زیادہ ہے اور زمین زرعی مقاصد کے لئے ناقابل استعمال ہے۔
اس منصوبے کو ڈیزائن، فنانس، بلڈ اینڈ آپریٹ (ڈی ایف بی او) کی بنیاد پر تیار کیا جائے گا اور مصدر اس منصوبے کی 85 فیصد کی مالک ہوگی۔ اس میں آرمینی نیشنل انٹرسٹ فنڈ سی جے ایس سی (اے این آئی ایف) کا حصہ 15 فیصد ہے۔
مصدرکے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد جمیل الرماہی نے کہا کہ آرمینیا کے سب سے بڑے شمسی منصوبے کے لئے ٹینڈر جیت کر مصدر اے این آئی ایف میں اپنے شراکت داروں اور آرمینیائی حکومت کے ساتھ تعاون میں ایک دلچسپ نئے مرحلے میں داخل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آرمینیا کے صاف توانائی کے سفر کا ایک اہم مرحلہ ہے۔
اس منصوبے سے کم لاگت والی شمسی توانائی کے ذریعے نئی صنعتوں کو طاقت ملے گی، ملازمتیں پیدا ہوں گی اور ملک خوشحال اور واقعی پائیدار مستقبل کی راہ پر گامزن ہوگا۔
اے این آئی ایف کے سی ای او ڈیوڈ پاپازیان نے کہا کہ چیئرمین سے لے کر نیچے تک ہم سب نے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لئے بہت محنت کی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اس عمل پر کام کرتے ہوئے برسوں سے گزر رہے ہیں لیکن ہمیں احساس ہے کہ یہ خطے میں گرین توانائی میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور جدید آرمینیا کی تاریخ میں دوسری بڑی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کااب تک کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرمینیا کی توانائی مکس تنوع اور قابل تجدید ذرائع کی طرف ارتقاء کے اس انتہائی اہم مرحلے میں مصدرکو ہمارا شراکت دار بنانا ہمارے لئے باعث افتخارہے۔ یہ پلانٹ 500 ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہوگا اور اس سے متعدد براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونگے ۔
یہ ٹینڈر نومبر 2019 میں مصدر اور اے این آئی ایف کے مابین آرمینیا میں 400 میگاواٹ کی کل صلاحیت کے ساتھ قابل تجدید توانائی منصوبوں کی تیاری کے لئے مشترکہ ترقیاتی معاہدے کا ایک حصہ تھا۔ باقی کے 200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے مزید بات چیت جاری ہے۔







