
خلیج اردو
تل ابیب: اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے ڈپٹی اسپیکر نیسیم وٹوری نے ایک انتہائی اشتعال انگیز اور غیر انسانی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں خواتین اور بچوں کو الگ کر کے تمام بالغ مردوں کو قتل کر دیا جائے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اسرائیل غزہ کی آبادی کے ساتھ غیر ضروری نرمی برت رہا ہے۔
عرب میڈیا نے عبرانی ریڈیو ‘کول برما’ کے حوالے سے بتایا ہے کہ نیسیم وٹوری نے فلسطینیوں کو "ٹھکرائے ہوئے لوگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں اور عالمی برادری جان بوجھ کر انہیں اسرائیل کی طرف دھکیل رہی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب نیسیم وٹوری نے اس قسم کے انتہا پسندانہ خیالات کا اظہار کیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ یہ متنازع دعویٰ کر چکے ہیں کہ "غزہ میں پیدا ہونے والا ہر بچہ دہشت گرد ہے” اور جو بھی یہاں مارا جا رہا ہے، وہ اسی سلوک کا مستحق ہے۔
ان کے اس بیان نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں ان کی یہ ہزرہ سرائی ایک سنگین اشتعال انگیزی سمجھی جا رہی ہے۔






