
خلیج اردو
پشاور: پشاور ہائی کورٹ میں متحدہ عرب امارات کو قتل کیس میں مطلوب پاکستانی شہری کی غیر قانونی حراست کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل، اسد نبی ایڈوکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے بیٹے کو ریڈ وارنٹ کے بجائے گرین وارنٹ پر گرفتار کیا گیا، جو قانونی طور پر درست نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ میں گرفتاری کا ذکر نہیں، بلکہ پولیس نے خود کارروائی کر کے ملزم کو حراست میں لیا۔
عدالتی معاون، بیرسٹر عامر خان چمکنی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم دبئی کو مطلوب تھا اور اس کے خلاف گرین نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، مقامی پولیس نے گرین نوٹس کی بنیاد پر گرفتاری عمل میں لائی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا، جس کے بعد مجسٹریٹ نے ملزم کو جیل بھجوا دیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ گرین نوٹس میں صرف مطلوب شخص کی نشان دہی کی جاتی ہے، جبکہ گرفتاری کا طریقہ کار الگ ہوتا ہے۔
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل، محمد انعام یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو سیکشن 54 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، جس کے مطابق پولیس کسی بھی مطلوب شخص کو گرفتار کر سکتی ہے۔
عدالت نے جیل انتظامیہ اور ایف آئی اے سے متعلقہ ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 25 مارچ تک ملتوی کر دی۔






