پاکستانی خبریں

عدنان صدیقی خواتین سے متعلق نامناسب گفتگو پر تنقید کی زد میں

خلیج اردو
کراچی: معروف اداکار عدنان صدیقی کو خواتین سے متعلق غیر مناسب گفتگو پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جب کہ سوشل میڈیا صارفین نہ صرف ان کے خیالات پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ ان کی ذہنی کیفیت پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔

حال ہی میں عدنان صدیقی نے نجی ٹی وی کے مزاحیہ پروگرام ہنسنا منع ہے میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔ ایک سیگمنٹ کے دوران جب میزبان تابش ہاشمی نے ان سے سوال کیا کہ وہ کسی لڑکی سے پہلی ملاقات میں کیا نوٹ کرتے ہیں تو عدنان صدیقی نے جواب دیا کہ وہ سب سے پہلے لڑکی کے پیر نوٹ کرتے ہیں۔ اس جواب پر میزبان نے بھی اتفاق کیا اور کہا کہ وہ بھی یہی کرتے ہیں۔

اسی دوران تابش ہاشمی نے وضاحت کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا کہ پیر اس لیے نوٹ کرتے ہیں تاکہ جہاں زندگی بھر رہنا ہے وہ جگہ صاف ہونی چاہیے۔ عدنان صدیقی نے مزید کہا کہ جو لوگ ہاتھ اور پیر صاف رکھتے ہیں، وہ صفائی پسند اور اچھی شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ میزبان کے تبصرے پر انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کا دل صاف ہونا چاہیے، گھر وہ خود ہی صاف کرلیں گے۔

گفتگو کا رخ اس وقت مزید متنازع ہوا جب میزبان نے پوچھا کہ اگر لڑکی کے پیر صاف ہوں لیکن بال چھوٹے ہوں تو؟ اس پر عدنان صدیقی نے جواب دیا: "بس لڑکی زندہ ہونی چاہیے، وہ زندہ ہو۔”

اس جملے نے ناظرین کو نہایت مایوس کیا اور سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ متعدد صارفین نے عدنان صدیقی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک بیٹی کے والد ہونے کے ناطے انہیں اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ کچھ افراد نے کہا کہ انہیں اپنی عمر اور مقام کا خیال رکھنا چاہیے اور ایسے غیر سنجیدہ اور غیر حساس جملے زیب نہیں دیتے۔

سوشل میڈیا پر یہ کلپ وائرل ہونے کے بعد "عدنان صدیقی” کا نام تنقیدی ٹرینڈز میں شامل ہو گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button