
خلیج اردو
نئی دہلی: بھارتی عسکری قیادت تاش کے پتوں کی طرح بکھرنے لگی ہے، جہاں ایک کے بعد ایک اعلیٰ فوجی افسر کو عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے۔ تازہ ترین پیش رفت میں نائب فضائی سربراہ ایئر مارشل ایس پی دھارکر کو صرف سات ماہ بعد ہی ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ ان کی برطرفی کو مودی سرکار کے ساتھ اختلافات اور جنگی پالیسیوں سے انکار کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئر مارشل ایس پی دھارکر نے مودی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں کی مخالفت کی اور ہر قسم کی جنگی کارروائی سے انکار کیا۔ وہ لائن آف کنٹرول کے قریب رافیل طیاروں کی پروازوں کے نگران تھے، مگر پاکستانی فضائیہ کی فوری کارروائی اور ریڈار جامنگ کے بعد ان کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے۔
اس سے قبل شمالی کمان کے آرمی کمانڈر کو بھی اچانک تبدیل کیا جا چکا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارتی عسکری ادارے مودی حکومت کی عسکری حکمت عملی سے نالاں ہیں۔ ایئر مارشل دھارکر کی جگہ اب ایئر مارشل نرمدیشور تیواری کو نائب فضائی سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔
ان اہم عہدوں پر اچانک تبدیلیوں نے بھارتی فضائیہ میں شدید بے چینی کو جنم دیا ہے اور فوجی حلقوں میں عدم اطمینان کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی عسکری قیادت اور سیاسی حکومت کے درمیان دراڑیں اب واضح ہو رہی ہیں، جو مستقبل میں سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔







