
خلیج اردو
صنعا:اسرائیل نے یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ پر بھرپور فضائی کارروائی کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 50 سے زائد بم گرائے جن کے نتیجے میں الحدیدہ بندرگاہ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں میں 30 سے زائد جنگی طیاروں نے حصہ لیا، جنہوں نے حوثی ملیشیا کے اہم اسٹریٹجک مراکز کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے حوثیوں کی جانب سے حالیہ راکٹ اور ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے، جن میں اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے حوثیوں کے اسلحہ ڈپو، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور مواصلاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
دوسری جانب، ایک امریکی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے حملے سے قبل واشنگٹن کو اعتماد میں لیا تھا، تاہم امریکی افواج نے ان فضائی حملوں میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ واشنگٹن کی جانب سے اس حملے میں عملی شرکت کی تردید کی گئی ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پہلے ہی اپنے عروج پر ہے، اور یمن میں جاری تنازعے میں بیرونی مداخلت کے خدشات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔







