عالمی خبریں

برطانیہ کی جانب سے پاکستان اور نائجیریا سمیت مختلف ممالک کیلئے اسٹوڈنٹ ویزے سے متعلق نئی پالیسی پر غور

خلیج اردو
لندن: برطانوی حکومت ایسے ممالک کے شہریوں پر طلبہ ویزے کی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ تعلیم کے بعد برطانیہ میں پناہ کی درخواست دے سکتے ہیں۔ اس مجوزہ پالیسی کا مقصد ملک میں خالص امیگریشن (نیٹ مائیگریشن) میں واضح کمی لانا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک سینئر اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ اس سلسلے میں ایک مکمل امیگریشن پلان آئندہ ہفتے پیش کیے جانے والے "امیگریشن وائٹ پیپر” کا حصہ ہوگا، جس میں قانونی اور غیر قانونی دونوں طرح کی امیگریشن سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات شامل ہوں گے۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر کی قیادت میں لیبر پارٹی کو انگلینڈ کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں عوامی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ووٹرز نے بالخصوص غیر قانونی امیگریشن پر سخت تنقید کی۔

برطانوی وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے: "ہماری آئندہ آنے والی امیگریشن وائٹ پیپر میں ایک بگڑے ہوئے نظام کو درست کرنے کے لیے مکمل حکمت عملی پیش کی جائے گی تاکہ امیگریشن پر قابو پایا جا سکے۔”

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، 2023 میں برطانیہ میں ایک لاکھ آٹھ ہزار افراد نے پناہ کی درخواست دی، جن میں سے 16 ہزار وہ افراد تھے جو پہلے طالب علم ویزے پر ملک میں داخل ہوئے تھے۔

اگرچہ حکومت ان افراد کی شہریت ظاہر نہیں کرتی، تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان، نائجیریا اور سری لنکا کے شہریوں میں تعلیم کے بعد سیاسی پناہ لینے کا رجحان سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں، لیبر پارٹی کے اندر سے بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ریڈ وال کہلائے جانے والے حلقے سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمنٹ جو وائٹ نے کہا ہے: "حکومت کو اب ہچکچاہٹ چھوڑنی ہوگی اور نیٹ مائیگریشن کو کم کرنے کے لیے سخت اور واضح فیصلے کرنے ہوں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button