
خلیج اردو
دبئی: دبئی ایئرپورٹس کے سی ای او پال گرفِتھس نے ہوائی اڈوں پر چیک ان کاونٹرز کے خاتمے اور مسافروں کے سفر کو مکمل طور پر نظر نہ آنے والا بنانے کے وژن کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مسافروں کو لمبی قطاروں، سیکیورٹی چیک اور امیگریشن کے مراحل سے گزارنا ناقابل قبول ہے، اس عمل کو آسان اور تیز تر بنا کر ایئرپورٹس کی گنجائش دوگنی کی جا سکتی ہے۔
دبئی ایئرپورٹس لرننگ ویک کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پال گرفِتھس نے کہا کہ 21ویں صدی میں مسافروں کو ہوائی اڈے پر صرف خوش آمدید کہنا اور انہیں آرام دہ اور مختصر سفر فراہم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ کا تصور ہوٹل لابی کی طرح ہونا چاہیے جہاں مسافر سیدھے آئیں، بایومیٹرک سسٹم ان کی شناخت اور سیکیورٹی کا تمام عمل خودکار طریقے سے مکمل کرے، اور وہ چند قدم چل کر اپنے طیارے تک پہنچ جائیں۔
انہوں نے روایتی بیگیج سسٹم پر بھی سوال اٹھایا کہ آج بھی سوٹ کیس پر کاغذی لیبل چسپاں کیا جاتا ہے، حالانکہ ہر بیگ میں پہلے سے بارکوڈ موجود ہونا چاہیے جو کسی بھی سسٹم میں پڑھا جا سکے اور مسافر کو بیگ جمع کرواتے ہی وہ منزل پر پہنچ جائے۔
پال گرفِتھس نے کہا کہ ہمیں ان پرانے 50 سے 100 سال پرانے طریقوں کو ترک کر کے دنیا کا پہلا مکمل کانٹیکٹ لیس ایئرپورٹ بنانے کی ہمت دکھانی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بڑے ایئرپورٹس لازمی نہیں کہ بہتر ہوں، بلکہ دبئی ایئرپورٹس نے پچھلے 10 سال میں بغیر کسی بڑے انفراسٹرکچر میں اضافے کے 20 فیصد ترقی کی ہے، کیونکہ ہم نے لوگوں اور کنیکٹیویٹی پر سرمایہ کاری کی۔
انہوں نے نئی المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے حوالے سے کہا کہ وہاں گہرے زیر زمین ریلوے سسٹم کی ضرورت ہے تاکہ شہر میں ٹریفک کا دباؤ کم کیا جا سکے، جس پر روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) سے مشاورت جاری ہے۔







