
خلیج اردو
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ فوج کا نہیں بلکہ حکومت کا ہے، اور اس فیصلے میں نواز شریف کی مشاورت بھی شامل ہے۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ایک بار پھر "زمانہ امن” کی پوزیشن پر واپس آ گئے ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ڈی جی ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان ہونے والی گفتگو میں دونوں ملکوں کی افواج کو جنگ سے قبل کی پوزیشن پر لانے پر اتفاق ہوا ہے، تاہم اس عمل کے لیے کوئی مخصوص ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پسرور میں پاکستانی افواج نے بھرپور مزاحمت کی، چیک پوسٹ پر ایک جوان اور آٹھ شہری شہید ہوئے مگر سپاہیوں نے آخری فوجی تک لڑائی کی اور چوکی نہیں چھوڑی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کوئی درخواست نہیں کی گئی تھی، اگر کی ہوتی تو عالمی برادری ضرور بتاتی۔ جنگ بندی کے دوران امریکی صدر اور وزیر خارجہ کا کردار کلیدی رہا، جبکہ مذاکرات کے لیے سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں کسی نیوٹرل مقام کا تعین کیا جائے گا۔ ان مذاکرات میں امریکا بنیادی کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ بھارت کے ساتھ بات چیت کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی جیسے اہم معاملات پر ہو گی۔ وزیراعظم کے مطابق جب مذاکرات ہوں گے تو پاکستان کی طرف سے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اور ڈی جی آئی ایس آئی شرکت کریں گے۔ دونوں ممالک کے سکیورٹی ایڈوائزرز نیوٹرل مقام پر ملاقات کریں گے۔
شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ جنگ کے دوران اسرائیل نے بھارت کی مکمل مدد کی، اور سرینگر سمیت دیگر علاقوں میں اسرائیلی ہتھیاروں کے استعمال کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ اسرائیلی فوجی ایڈوائزر بھی بھارتی فورسز کی معاونت کرتے پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے پیچھے بھی بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے، اور پاکستان جلد بھارت کی دہشت گردی میں مداخلت کے ثبوت دنیا کے سامنے رکھے گا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ بھارتی حملے کے جواب میں پاکستان نے "جوالفتح” میزائل استعمال کیا جو مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کیا گیا تھا۔ وزیراعظم کے مطابق پوری جنگ کی قیادت آرمی چیف نے تمام افواج کی طرف سے کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دعائے خیر بھی کی اور اللہ نے فتح بھی عطا کی۔
شہباز شریف نے مزید بتایا کہ رات ڈھائی بجے انہیں آرمی چیف کا غصے سے بھرا فون آیا جس میں اطلاع دی گئی کہ بھارت حملے کی تیاری کر رہا ہے، جس پر انہوں نے کہا کہ "ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، آگے بڑھیں اور بھارت کو جواب دیں”۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک کو جو دفاعی و معاشی لحاظ سے بہت آگے ہے، بھرپور جواب دیا اور ثابت کیا کہ پاکستانی قوم ہر محاذ پر متحد اور پرعزم ہے۔






