
خلیج اردو
نئی دہلی: بھارت میں عام انتخابات کے تناظر میں مودی حکومت کی حکمت عملی پر اپوزیشن کی شدید تنقید سامنے آ رہی ہے۔ بی جے پی کی جانب سے پارٹی صدر کے انتخاب کو مؤخر کیے جانے کے فیصلے نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جب کہ کانگریس سمیت دیگر جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی سرکار ووٹ حاصل کرنے کے لیے قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
انگریزی اخبار "دی ایشین ایج” کی رپورٹ کے مطابق، بی جے پی نے پہلگام حملے کو بنیاد بنا کر پارٹی صدر کے انتخاب کو مؤخر کر دیا۔ ذرائع کے مطابق، بی جے پی قیادت کو امید تھی کہ پہلگام واقعے اور اس کے بعد کیے گئے نام نہاد "آپریشن سندور” کے ذریعے وہ آر ایس ایس کی حمایت حاصل کر لے گی، تاہم یہ حکمت عملی بری طرح ناکام رہی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مودی حکومت عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے میں بھی ناکامی کے بعد اندرونِ ملک صرف ووٹ بینک کو متحرک کرنے کے لیے "ترنگا یاترا” جیسی ریلیوں کو استعمال کر رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت آپریشن سندور کی تفصیلات جان بوجھ کر چھپا رہی ہے تاکہ انتخابی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔
کانگریس کے سینئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کو چاہیے کہ وہ خصوصی پارلیمانی اجلاس بلا کر آپریشن سندور اور پہلگام حملے کی اصل معلومات عوام کے سامنے رکھے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ حکومت کی جانب سے عوام کے ساتھ کیا کچھ چھپایا جا رہا ہے۔
بھارت میں انتخابات کے قریب آتے ہی ایسی چالاکیاں اور سیاسی چالیں ایک مرتبہ پھر مودی سرکار کی اقتدار پرستی کو بے نقاب کر رہی ہیں، جب کہ اپوزیشن کا دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے کہ ان حساس معاملات پر کھلی اور غیر جانبدار تحقیق سامنے لائی جائے۔







