عالمی خبریں

ذوالحجہ کے نو دن متحدہ عرب امارات کے لوگوں کی عبادت جس میں وہ انٹرمیڈیٹ فاسٹنگ کرتے ہیں اور روحاتی سکون حاصل کرتے ہیں

خلیج اردو
شارجہ: اگرچہ فریال مصطفیٰ اس سال حج پر نہیں جا رہیں، مگر ان کا دل ان مبارک ایام کی روحانیت سے پوری طرح جُڑا ہوا ہے۔ شارجہ کے علاقے ابو شغارہ کی رہائشی فریال نے ذوالحجہ کے ابتدائی نو دن مکمل روزے رکھنے کا عزم کیا ہے تاکہ ان بابرکت لمحات سے بھرپور روحانی فائدہ اٹھایا جا سکے۔

فریال نے کہا، "میں مکہ میں نہیں، لیکن میرا دل ان دنوں کے مقصد سے جُڑا ہوا ہے۔ روزہ رکھنا میری طرف سے اللہ سے محبت کے اظہار کا ذریعہ ہے۔” وہ گزشتہ ایک ماہ سے وقفے وقفے سے روزے رکھ رہی تھیں، اس لیے ذوالحجہ شروع ہوتے ہی مکمل روزوں کی طرف جانا ان کے لیے ایک فطری تسلسل تھا۔

ان کا کہنا تھا، "رمضان کو صرف دو ماہ ہوئے ہیں، اس کی روحانی فضا ابھی بھی دل میں ہے۔ میرے لیے یہ دس دن ایک چھوٹے رمضان جیسے ہیں۔” فریال کو نبی کریم ﷺ کی حدیث نے بہت متاثر کیا: "اللہ کے نزدیک ان دس دنوں میں کیے گئے نیک اعمال سے زیادہ پسندیدہ کوئی دن نہیں۔” (بخاری)

اسی حدیث نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ان دنوں میں عبادت، صدقہ، روزہ اور ذکر الٰہی کو بڑھانے کی ترغیب دی ہے۔ فریال کہتی ہیں کہ پہلے وہ صحت کی خاطر روزے رکھتی تھیں، مگر اب ان کا مقصد روحانی ہے — اللہ کے قریب ہونا۔

دبئی کے جے ایل ٹی کے رہائشی اور ریلائنس ایلومینیم فیبری کیشن میں مارکیٹنگ ایگزیکٹو احمد بلال بھی ان مقدس دنوں کو روزے رکھ کر منارہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "اپریل سے انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کر رہا ہوں، لیکن ذوالحجہ میں اس کی روحانی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ سحری میں اٹھنا، نماز پڑھنا، اور دن کا آغاز خالص نیت سے کرنا میرے دن کو بدل دیتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا، "حج ہر مسلمان کا خواب ہے، لیکن ہر سال جانا ممکن نہیں۔ تاہم، اللہ کے قرب کی دوسری راہیں بھی موجود ہیں — اور ان میں سے ایک یہی روزے ہیں۔” احمد نے کہا کہ ان دنوں کا روزہ صرف کھانے سے پرہیز نہیں بلکہ روح کی غذا ہے، اور عرفہ کا دن خاص طور پر روحانی تجدید کا موقع ہے۔

ان دنوں کی اہمیت
المنار اسلامک سنٹر کے امام و خطیب شیخ ایاز ہوسی نے وضاحت کی کہ قرآن میں ان دس راتوں پر اللہ نے قسم کھائی ہے: "قسم ہے فجر کی، اور ان دس راتوں کی۔” (سورۃ الفجر: 1-2) علما کی اکثریت کے مطابق یہ ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔

شیخ ایاز نے بتایا کہ یہ دن تمام اہم عبادات کو یکجا کرتے ہیں — نماز، روزہ، حج، صدقہ، ذکر اور قربانی — اور سال کے کسی اور حصے میں یہ مکمل پیکیج دستیاب نہیں ہوتا۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ پہلے نو دنوں کے روزے فضیلت رکھتے ہیں، لیکن عرفہ کے دن (نویں دن) کا روزہ خاص اہمیت کا حامل ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: "عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔” (صحیح مسلم)

قرب الٰہی کی راہ
شیخ ایاز نے مزید بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے حدیث قدسی میں فرمایا: "میرا بندہ ان اعمال کے ذریعے میرے قریب ہوتا ہے جو میں نے فرض کیے ہیں، اور وہ نوافل کے ذریعے مزید قریب ہوتا ہے۔” (بخاری)

انہوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ ان دنوں میں نہ صرف روزہ رکھیں بلکہ ذکر، قرآن کی تلاوت اور صدقہ جیسے اعمال بھی کریں، تاکہ دل نرم ہوں اور روحانی دولت میں اضافہ ہو۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button