پاکستانی خبریں

دوستی سے مسلسل انکار قتل کی وجہ بنی،ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا مبینہ قاتل گرفتار، دوستی سے انکار پر لرزہ خیز قتل

خلیج اردو
اسلام آباد: ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل میں ملوث مبینہ قاتل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کے مطابق واقعہ دوستی سے انکار کے نتیجے میں پیش آیا۔ گرفتار ملزم مقتولہ سے دوستی کا خواہشمند تھا اور مسلسل انکار پر انتقام پر اتر آیا۔

پولیس کے مطابق 17 سالہ ثنا یوسف کو اس کے گھر میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ ملزم مہمان کے روپ میں گھر میں داخل ہوا اور مقتولہ کو دو گولیاں مار کر فرار ہو گیا۔ واقعہ اسلام آباد کے تھانہ سنبل کے علاقے جی-13 میں پیش آیا۔ پولیس نے مقدمہ مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔

آئی جی اسلام آباد نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملزم تک پہنچنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ 113 سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لی گئی، ٹیموں نے سیلولر ٹیکنالوجی اور دیگر ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے تین سو فون کالز کا تجزیہ کیا۔ ملزم واردات کے بعد مقتولہ کا موبائل فون بھی اپنے ساتھ لے گیا تھا۔

مقتولہ کی والدہ فرزانہ نے بیان دیا کہ شام پانچ بجے کے قریب ایک شخص اچانک پستول ہاتھ میں لیے ان کے گھر میں داخل ہوا اور براہ راست ثنا پر گولیاں چلائیں، جن کا مقصد قتل کرنا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق ثنا یوسف کو دو گولیاں سینے میں لگیں، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ والدہ کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کی دیورانی لطیفہ شاہ اس واقعے کی عینی شاہدات ہیں اور ملزم کو سامنے دیکھ کر شناخت کر سکتی ہیں۔

فرزانہ نے مزید بتایا کہ ان کا پندرہ سالہ بیٹا اس وقت گھر پر موجود نہیں تھا کیونکہ وہ بالائی چترال میں اپنے آبائی گاؤں گیا ہوا تھا، جبکہ لطیفہ شاہ چند دنوں کے لیے ان کے گھر آئی ہوئی تھیں۔

ایف آئی آر میں ملزم کو "چست حلیہ، درمیانہ قد و جسم” اور "سیاہ قمیض و پینٹ میں ملبوس” قرار دیا گیا ہے۔

ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کا واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب پاکستان میں سوشل میڈیا بالخصوص ٹک ٹاک پر نوجوانوں کی بڑی تعداد سرگرم ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں 5 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیں۔ اس ایپ کو ماضی میں متعدد بار غیر اخلاقی مواد کے الزام میں بند کیا گیا، صرف 2021 میں اسے چار بار بلاک کیا گیا تھا۔

جنوری میں بھی ایک افسوسناک واقعے میں ایک شخص نے کوئٹہ میں اپنی 15 سالہ بیٹی کو ٹک ٹاک ویڈیوز پر ناراضی کے باعث قتل کر دیا تھا، جبکہ اسی ماہ لاہور میں دو ٹک ٹاکرز اپنی ہی پستول سے حادثاتی طور پر جاں بحق ہو گئے تھے۔

ٹک ٹاک اس وقت پاکستان میں دستیاب ہے، تاہم مواد کی سخت نگرانی اور حکام کے ساتھ تعاون جاری ہے۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی گئی ہے، جس میں ملزم کو واردات کے بعد فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد کی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کیا گیا اور مزید تفتیش جاری ہے۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر جاری کردہ بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ واقعہ گزشتہ روز اسلام آباد میں پیش آیا، جب ایک نقاب پوش شخص نے نوجوان لڑکی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

محسن نقوی کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو دوپہر 12 بجے گرفتار کر لیا۔ ملزم کے قبضے سے قتل میں استعمال ہونے والا پستول اور مقتولہ کا موبائل فون بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ گرفتار شخص نے ابتدائی تفتیش میں قتل کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button