
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں درجہ حرارت کے بڑھنے کے ساتھ ہی کچھ طبی مراکز میں فوڈ پوائزننگ کے کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ ایک موسمی رجحان ہے اور شہریوں کو گرمیوں کے مہینوں میں کھانے کی تیاری اور ذخیرہ کرنے میں خاص احتیاط برتنی چاہیے۔
میڈ کیئر رائل اسپیشیلٹی اسپتال کے کنسلٹنٹ انٹرنل میڈیسن، ڈاکٹر اونی راجاسیکرن نائر نے بتایا کہ "گرمیوں کے عروج پر ہم عموماً فوڈ بورن بیماریوں میں نمایاں اضافہ دیکھتے ہیں۔ آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ اور ایمرجنسی یونٹس میں متلی، قے، دست اور پیٹ درد کی شکایات میں موسمی اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے جو اکثر خوراک میں آلودگی سے جڑی ہوتی ہیں۔”
این ایم سی میڈیکل سینٹر شارجہ کی ڈاکٹر سلمیٰ خانم پٹان نے بھی اس رجحان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا، "ہر موسم گرما میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو فوڈ پوائزننگ کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔”
رواں سال مئی میں متحدہ عرب امارات میں درجہ حرارت 51.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جو اس سیزن کے دوران اب تک کا سب سے بلند درجہ حرارت ہے۔ اس کے ساتھ ہی اپریل کا مہینہ گزشتہ دہائی کا سب سے گرم مہینہ ریکارڈ ہوا۔ اگرچہ فلکیاتی اعتبار سے موسم گرما کا آغاز 21 جون سے ہوتا ہے، لیکن گرمی نے وقت سے پہلے ہی شدت اختیار کر لی ہے۔
احتیاطی تدابیر
ڈاکٹر روہت نے خبردار کیا کہ گرمی کے باعث بیکٹیریا جیسے سالمونیلا، ای کولی اور لسٹیریا بہت تیزی سے بڑھتے ہیں، خاص طور پر جب خوراک کو صحیح طریقے سے محفوظ یا تیار نہ کیا جائے۔
عجمان کے میٹرو میڈیکل سینٹر کے ماہر اطفال ڈاکٹر جمال الدین ابوبکر نے کہا کہ بچوں میں بھی فوڈ پوائزننگ کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر خوراک 4 سے 60 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان درجہ حرارت پر رکھی جائے تو بیکٹیریا کے لیے بہترین ماحول پیدا ہوتا ہے، اور ایسی خوراک کے کھانے سے فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔”
ڈاکٹر سلمیٰ نے کہا کہ گھر پر کھانا پکاتے وقت ہاتھ دھونا، کچا گوشت یا مرغی سنبھالنے کے بعد صفائی کرنا اور بچا ہوا کھانا جلدی فریج میں رکھنا بہت اہم ہے۔ "خوراک کو کمرہ درجہ حرارت پر دو گھنٹے سے زیادہ نہ چھوڑیں۔”
پیکڈ لنچ کے لیے احتیاط
دبئی کے فوڈ سیفٹی ماہر بوبی کرشنا نے کہا کہ کھانے کی خریداری، پیکنگ اور ترسیل کے تمام مراحل پر احتیاط برتنا ضروری ہے۔ "اگر کھانے کو ٹھنڈا نہ رکھا جائے تو اسے ایک گھنٹے کے اندر استعمال کر لینا چاہیے۔ خریداری کے دوران گوشت، دودھ اور سلاد جیسے اشیاء کو آخر میں چنیں تاکہ وہ زیادہ دیر تک گرم ماحول میں نہ رہیں۔ خریداری کے فوراً بعد گھر جا کر انہیں ریفریجریٹ یا فریز کریں۔”
انہوں نے کہا کہ لنچ پیک کرتے وقت انسولیٹڈ بیگ یا آئس پیک استعمال کریں تاکہ سلاد، سینڈوچ، جوس، دودھ اور پکا ہوا کھانا ٹھنڈا رہے۔ بوبی کرشنا نے فریج کو حد سے زیادہ بھرنے سے بھی منع کیا۔ "اس سے فریج کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور ٹھنڈی ہوا مناسب طریقے سے نہیں گردش کر پاتی، جس کی وجہ سے کھانا دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے اور خطرناک درجہ حرارت میں زیادہ وقت گزارتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ فوڈ سیفٹی تکنیک سال بھر اہم ہیں، لیکن متحدہ عرب امارات جیسے ملک میں موسم سرما کے دوران بھی درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، اس لیے عوام کو ہر موسم میں احتیاطی تدابیر اپنانی چاہئیں، خصوصاً گرمیوں میں ان میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔







