متحدہ عرب امارات

رأس الخیمہ: بیوی اور اس کے آشنا کو وکیل کے قتل کا جرم ثابت، گاڑی کو وادی میں دھکیلنے کی منصوبہ بندی بے نقاب

خلیج اردو
رأس الخیمہ: متحدہ عرب امارات میں ایک وکیل کے قتل کے جرم میں اس کی بیوی، اس کا آشنا اور ایک ایشیائی ڈرائیور کو سزا سنائی گئی ہے۔ رأس الخیمہ پولیس نے قتل کی سنگین سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے تینوں افراد کو گرفتار کیا، جو ابتدائی طور پر واقعے کو حادثہ ظاہر کرنا چاہتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق، مرکزی ملزم ایچ. ایم. کا تعلق ایک مقامی اسکول میں کام کرنے والی شادی شدہ خاتون سے قائم ہوا، جو مقتول وکیل کی بیوی تھی۔ دونوں کے درمیان قریبی تعلقات قائم ہو گئے تھے اور انہوں نے مل کر شوہر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ مقتول ذیابیطس کا مریض تھا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیوی نے پہلے اس کی انسولین میں نیند کی دوا ملانے کی کوشش کی، لیکن یہ کوشش ناکام رہی۔

بعد ازاں، خاتون نے ایک اور طاقتور دوا انسولین میں ملا کر شوہر کو بے ہوش کیا اور یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ مر چکا ہے، اپنے آشنا کو گھر بلایا تاکہ لاش کو ٹھکانے لگایا جا سکے۔ تاہم جب آشنا نے دیکھا کہ وکیل ابھی زندہ ہے، تو اس نے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔

اس کے بعد آشنا نے اپنے ایشیائی ڈرائیور کو 10 ہزار درہم کی پیشکش کی اور تینوں نے مل کر مقتول کی لاش کو ایک کار میں رکھ کر پہاڑی علاقے میں لے جایا۔ وہاں مقتول کے ہاتھ گاڑی کے اسٹیئرنگ ویل سے باندھے گئے اور گاڑی کو وادی میں دھکیل دیا گیا تاکہ واقعہ ایک حادثہ معلوم ہو۔

چند روز بعد ایک چرواہے نے وادی میں تباہ شدہ گاڑی دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی، جس نے تفتیش کا آغاز کیا۔ تحقیقات کے دوران تینوں افراد پر جرم ثابت ہوا اور انہوں نے اعترافِ جرم بھی کر لیا۔

عدالت نے تینوں مجرموں کو سزائے موت سنائی۔ تاہم، مقتول کی بیوی نے اپیل دائر کی جس کے نتیجے میں اس کی سزا عمر قید میں تبدیل کر دی گئی۔ مزید برآں، مقتول کے بچوں کی طرف سے معافی نامہ داخل کیے جانے کے بعد خاتون کو صرف ایک سال قید کے بعد رہا کر دیا گیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button