پاکستانی خبریں

ڈرون حملے بن کیے جائیں،خیبرپختونخوا کے بقایاجات فوری ادا کیے جائیں، ضم اضلاع کو این ایف سی میں حصہ دیا جائے، وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا مطالبہ

خلیج اردو
پشاور: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے تمام مالیاتی بقایاجات فوری طور پر ادا کیے جائیں اور ضم شدہ اضلاع کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) میں ان کا جائز حصہ فوری طور پر فراہم کیا جائے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ڈرون حملوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ پن بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات بھی جلد جاری کیے جائیں تاکہ صوبے کو مالی خودمختاری حاصل ہو۔

وزیر اعلیٰ نے ضم اضلاع میں روایتی جرگہ سسٹم کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام مقامی سطح پر تنازعات کے حل اور امن کے قیام میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان امن مذاکرات میں خیبرپختونخوا کو بھی شامل کیا جائے کیونکہ اس خطے کا امن افغانستان سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے سابق فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کے عوام ٹیکس دینے کے قابل نہیں کیونکہ وہ دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ "ضم شدہ اضلاع میں بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ ان علاقوں کو قومی دھارے میں لایا جا سکے۔”

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ان اضلاع کی قربانیوں کو سراہا جائے اور جو وعدے ان کے ساتھ کیے گئے تھے، ان کو پورا کیا جائے۔ "ملکی دفاع اور سالمیت پر پوری قوم متحد ہے، سیاسی اختلافات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔”

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی تحریک انصاف نے قید میں رہتے ہوئے بھی قوم کو بھارتی جارحیت کے خلاف متحد کیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button