پاکستانی خبریں

شدید موسم سے متاثرہ تعلیمی نظام: پاکستان میں موسم گرما کی شدت بچوں کو اسکول جانے سے روکنے لگا

خلیج اردو
اسلام آباد: پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے جڑے شدید موسم — جن میں جھلسا دینے والی گرمی، زہریلا دھواں اور غیر معمولی سردی شامل ہیں — کی وجہ سے اسکولوں کی بندش معمول بنتی جا رہی ہے، جس سے لاکھوں بچے ہر سال کئی ہفتے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔

موسم گرما کی شدت نے تعلیمی اوقات کو محدود کرنے اور موسم گرما کی تعطیلات قبل از وقت شروع کرنے پر مجبور کیا ہے۔ مئی میں ملک بھر میں گرمی کی لہر کے دوران درجہ حرارت معمول سے سات ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا، پنجاب میں یہ 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

لاہور کے ایک طالب علم حافظ احتشام نے بتایا: ’’کلاس اتنی گرم ہو جاتی ہے جیسے کسی اینٹوں کے بھٹے میں بیٹھے ہوں، دل نہیں چاہتا اسکول آنے کو۔‘‘

پاکستان محکمہ موسمیات کے مطابق موسم گرما کبھی جون میں شروع ہوتا تھا، لیکن گزشتہ پانچ سالوں میں مئی کا مہینہ بھی ویسا ہی گرم ہوتا جا رہا ہے۔

15 سالہ طالبہ جنت نے اے ایف پی کو بتایا، ’’بجلی بند ہونے پر پسینے کی بوندیں ماتھے سے ڈیسک پر گرنے لگتی ہیں، کلاس میں ایک لڑکی کو تو گرمی کی شدت سے ناک سے خون آ گیا۔‘‘

تعلیم بمقابلہ صحت

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے لحاظ سے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ یہاں وسائل کی کمی اور تعلیمی نظام کی کمزوری کے باعث صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ ملک میں 2 کروڑ 60 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ 65 فیصد بچے دس سال کی عمر تک عمر کے مطابق مواد پڑھنے کے قابل نہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی ماہرِ تعلیم بیلہ رضا جمیل کا کہنا ہے: ’’ہم جلد ہی طلبا کی ذہنی استعداد میں شدید کمی دیکھیں گے کیونکہ وہ طویل عرصے تک شدید گرمی اور دھویں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ غربت زدہ طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، مگر اب شہری متوسط طبقہ بھی زد میں ہے۔‘‘

پنجاب میں حالیہ تعلیمی سال میں نومبر میں دو ہفتے، جنوری میں سردی کے باعث تین ہفتے، اور مئی میں گرمی کی شدت کی وجہ سے دو ہفتے کلاسز بند رہیں۔ سیاسی کشیدگی اور کرکٹ میچوں کی وجہ سے مزید دن ضائع ہوئے۔

بلوچستان میں لگاتار تیسرے سال مئی میں گرمی کے باعث تعطیلات دی گئیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں اسکول اوقات معمول سے کم کر دیے گئے۔ سندھ میں والدین کے دباؤ کے باوجود حکام نے اسکول بند کرنے سے گریز کیا، تاہم اسکولوں میں حاضری 25 فیصد تک کم ہو گئی۔

کراچی میں نجی اسکول کے پرنسپل صادق حسین کا کہنا تھا، ’’اس موسم میں والدین کے لیے بچوں کو اسکول بھیجنا مشکل ہوتا ہے۔ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔‘‘

آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری دوست محمد دانش نے خبردار کیا کہ: ’’پاکستان سے آئندہ بہتر سائنسدانوں کی امید نہ رکھیں۔‘‘

تعلیمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت

پاکستان میں اسکولوں کے اوقات اور تعطیلات کے فیصلے صوبائی حکومتیں کرتی ہیں، جو پورے علاقے کے لیے یکساں احکامات جاری کرتی ہیں، حالانکہ مختلف علاقوں میں موسم اور سہولیات میں فرق ہوتا ہے۔

ماہرین اب اسکول کے اوقات، امتحانات کے شیڈول اور تعطیلات پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہفتہ کی کلاسز یا دوپہر کے وقت کے بجائے صبح و شام کی شفٹوں کا مطالبہ بھی سامنے آ رہا ہے۔

ورلڈ بینک کی سینیئر ماہر تعلیم عزہ فرخ نے کہا: ’’موسمیاتی اثرات حاضری اور تعلیمی کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ اسکولوں کو اپنے تعلیمی کلینڈر میں لچک رکھنی چاہیے، امتحانات کی جگہ سال بھر مسلسل جائزہ ہونا چاہیے۔‘‘

عمارتوں کو موسمیاتی لحاظ سے موزوں بنانا بھی ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ ہزاروں اسکولوں کو سولر پینلز سے لیس کیا گیا ہے، مگر ملک کے ڈھائی لاکھ اسکولوں میں سے اکثریت اب بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔

ورلڈ بینک کے تعاون سے سندھ میں سیکڑوں ایسے اسکول تعمیر ہو رہے ہیں جو سیلابی پانی سے بچاؤ کے لیے اونچائی پر بنائے جا رہے ہیں، جن میں سولر بجلی اور گرمی و سردی کے خلاف انسولیشن شامل ہے۔

تاہم سندھ کے دیہی علاقوں جیسے سکھر میں، جہاں 2022 کے تباہ کن سیلاب نے 27 ہزار اسکولوں کو متاثر کیا، وہاں بچے نیم منہدم عمارتوں کے باہر کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

مزدور علی گوہر گندھو نے کہا: ’’ہمارے بچے پریشان ہیں، اور ہم شدید فکر میں مبتلا ہیں۔ سب ہی اس تکلیف سے گزر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button