
خلیج اردو
لاس اینجلس: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف امریکہ کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہروں اور احتجاج کی لہر پھیل گئی ہے۔ لاس اینجلس سے شروع ہونے والے احتجاج نے نیویارک، ٹیکساس، بالٹی مور، اٹلانٹا اور شکاگو سمیت دیگر ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور کئی مقامات پر املاک کو نذر آتش کر دیا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک میں ڈھائی ہزار سے زائد افراد نے مظاہرہ کیا، جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 83 افراد کو گرفتار کرلیا۔ شکاگو میں مظاہروں کے دوران 17 افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ سان فرانسسکو سے 150 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔
ٹیکساس کے گورنر نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے نیشنل گارڈز تعینات کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کیلیفورنیا کے جنوبی علاقوں میں بھی حالات کشیدہ ہیں جہاں پولیس نے 330 مظاہرین کو حراست میں لیا۔
لاس اینجلس میں تعینات کمانڈنگ آفیسر میجر جنرل سکاٹ شرمین کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو اس وقت تک حراست میں رکھا جائے گا جب تک انہیں باضابطہ طور پر گرفتار نہ کیا جائے۔ دوسری جانب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ان تمام ریاستوں میں فوج تعینات کریں گے جہاں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔







