متحدہ عرب امارات

امارات روڈ حادثے کے جاں بحق مزدوروں کے خاندانوں تک امداد پہنچنے لگی، ایک کروڑ درہم کے بحالی پروگرام سے نئی امید پیدا ہوگئی

خلیج اردو

متحدہ عرب امارات میں دبئی کی امارات روڈ پر پیش آنے والے المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے سات مزدوروں کے اہلِ خانہ کو مالی امداد کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ دبئی میں مقیم بھارتی ارب پتی ڈاکٹر شمشیر ویالیل کے اعلان کردہ 10 لاکھ درہم کے بحالی پروگرام کے تحت ہر جاں بحق مزدور کے خاندان کو ایک لاکھ درہم فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ بچوں کی تعلیم کے لیے بھی خصوصی معاونت کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

ڈاکٹر شمشیر ویالیل کے نمائندوں نے بھارت کی ریاستوں تلنگانہ، اتر پردیش اور سری لنکا کے علاقے ملائیتیو کا دورہ کرکے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی، ان سے اظہارِ تعزیت کیا اور مالی امداد ان کے حوالے کی۔

تلنگانہ میں سلیم سید حسین، عبدالرؤف عبد الرحیم اور تروپتی گولاپلی چندریا کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ مرحوم اپنے خاندان کے بہتر مستقبل، بچوں کی تعلیم اور گھر کی تعمیر کے خواب لے کر متحدہ عرب امارات آئے تھے، مگر حادثے نے ان کے تمام خواب ادھورے چھوڑ دیے۔

اتر پردیش کے شہر ماؤ میں جاں بحق مارکنڈے چوہان کی 17 سالہ بیٹی انکیتا نے نرسنگ کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی، جس پر ڈاکٹر شمشیر ویالیل کے نمائندوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس کی تعلیم کے تمام اخراجات برداشت کیے جائیں گے اور تعلیم مکمل ہونے پر متحدہ عرب امارات میں ملازمت کا موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔

اسی طرح عبدالرشید ذاکر حسین اور محمد ثاقب لیاقت علی کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ دونوں بہتر روزگار اور اپنے خاندان کے روشن مستقبل کے لیے متحدہ عرب امارات گئے تھے، مگر المناک حادثے نے ان کی زندگیوں کا رخ بدل دیا۔

امدادی پروگرام کے تحت حادثے میں زخمی ہونے والے نو مزدوروں کو بھی ان کی چوٹوں کی نوعیت اور علاج کی ضروریات کے مطابق مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔ کچھ زخمیوں کو متحدہ عرب امارات میں امداد دی گئی جبکہ وطن واپس جانے والوں کے بینک اکاؤنٹس میں رقم منتقل کر دی گئی ہے۔

وی پی ایس ہیلتھ کے ڈائریکٹر حافظ علی نے کہا، "ہم صرف مالی امداد نہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ وہ تنہا نہیں ہیں، متحدہ عرب امارات میں لوگ آج بھی ان کے پیاروں کو یاد رکھتے ہیں اور اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔”

یہ اقدام نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری سہارا ثابت ہوا بلکہ انسانی ہمدردی، بین الاقوامی یکجہتی اور سماجی ذمہ داری کی ایک مؤثر مثال بھی بن گیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button