
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، کلاؤڈ آرکیٹیکچر اور ڈیووپس جیسے خصوصی شعبوں کے ماہرین کی شدید کمی سامنے آ گئی ہے، جس کے باعث کمپنیاں فوری بھرتیوں کے بجائے طویل المدتی افرادی قوت کی منصوبہ بندی پر توجہ دے رہی ہیں۔
عالمی افرادی قوت کی حکمتِ عملی کی ماہر اور ایتھرا ایڈوائزری کی بانی سونم حیدر کے مطابق، 2026 کے دوسرے نصف میں تقریباً 80 فیصد کمپنیاں نئی بھرتیاں برقرار رکھنے یا ان میں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، تاہم اب توجہ صرف خالی آسامیاں پُر کرنے کے بجائے مستقبل کی مہارتیں پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دبئی کے ڈی 33 منصوبے سمیت قومی ترقیاتی پروگراموں کے باعث انجینئرنگ، بنیادی ڈھانچے، مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ خدمات کے شعبوں میں مسلسل بھرتیاں جاری ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، کلاؤڈ آرکیٹیکچر اور تصدیق شدہ ڈیووپس انجینئرز کی مانگ سب سے زیادہ ہے۔
سونم حیدر کے مطابق کمپنیاں اعلیٰ صلاحیت کے حامل امیدواروں کو راغب کرنے کے لیے پرکشش ملازمت پیکجز، رہائش اور منتقلی کی سہولت، طویل المدتی کیریئر منصوبے اور داخلی تربیتی پروگرام متعارف کرا رہی ہیں کیونکہ عالمی سطح پر ایسے ماہرین کی تعداد طلب کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب بہت سی کمپنیاں ملازمین کو ابتدا میں ان کے آبائی ممالک سے ہی آن لائن کام شروع کروا رہی ہیں، جبکہ ویزا اور دیگر انتظامات مکمل ہونے کے بعد انہیں متحدہ عرب امارات منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ اب ہنگامی حل کے بجائے مستقل افرادی قوت کی حکمتِ عملی بنتا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ جنوبی ایشیا، خصوصاً بھارت، اب بھی متحدہ عرب امارات کے لیے ہنرمند افراد کا بڑا ذریعہ ہے، تاہم کمپنیاں پولینڈ، رومانیہ، جمہوریہ چیک، کینیا، گھانا، نائجیریا، فلپائن اور ویتنام جیسے ممالک سے بھی ماہرین کی بھرتی بڑھا رہی ہیں تاکہ مخصوص تکنیکی صلاحیتوں کی ضرورت پوری کی جا سکے۔
سونم حیدر نے کہا کہ حکومت کی سرمایہ کاری، نئی کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اور ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبے 2027 تک روزگار کے مواقع میں مزید وسعت پیدا کریں گے، جبکہ جو کمپنیاں آج سے اپنی افرادی قوت کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں وہ مستقبل میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہوں گی۔







