متحدہ عرب امارات

کراچی کے گل پلازہ آتشزدگی کیس میں 11 سالہ بچے پر فردِ جرم، 72 افراد کی ہلاکت کے مقدمے کی سماعت جووینائل عدالت میں ہوگی

خلیج اردو
کراچی کے گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں رواں سال 17 جنوری کو پیش آنے والی ہولناک آتشزدگی کے مقدمے میں 11 سالہ بچے پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں 72 افراد جاں بحق، آٹھ زخمی جبکہ ایک ہزار ایک سو سے زائد دکانیں تباہ ہوگئی تھیں۔

پولیس کی چالان رپورٹ کے مطابق 11 سالہ حذیفہ مبینہ طور پر اپنے والد کی دکان میں ماچس سے کھیل رہا تھا، جس کے دوران آگ بھڑک اٹھی۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دیگر بچوں اور عینی شاہدین کے بیانات بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔

پولیس نے بچے کے والد اور گل پلازہ مینجمنٹ کمیٹی کے چار ارکان کو بھی مقدمے میں نامزد کیا ہے۔ الزام ہے کہ والد نے دکان ایک کم عمر بچے کے سپرد کر رکھی تھی، جبکہ مینجمنٹ کمیٹی حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد کرانے اور بچے کو اکیلے دکان چلانے سے روکنے میں ناکام رہی۔

تحقیقات کے دوران عمارت میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات میں سنگین غفلت بھی سامنے آئی۔ چالان کے مطابق ہنگامی اخراج کے راستے بند یا رکاوٹوں کا شکار تھے، آگ بجھانے والے آلات ناکافی تھے، فائر ہائیڈرنٹ سسٹم موجود نہیں تھا، جبکہ آگ لگنے کے بعد بجلی منقطع ہونے سے ہنگامی روشنی کا بھی کوئی انتظام نہیں تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مینجمنٹ کمیٹی کے ذمہ داران نے بروقت فائر بریگیڈ اور امدادی اداروں کو اطلاع دینے میں بھی غفلت برتی۔

چونکہ ملزم کی عمر 11 سال ہے، اس لیے اس کے خلاف مقدمے کی سماعت بالغوں کی عدالت کے بجائے جووینائل عدالت میں ہوگی، جہاں کم عمر ملزمان کے مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے۔

گل پلازہ میں لگنے والی آگ تقریباً دو روز تک بھڑکتی رہی، جس کے نتیجے میں بچوں کے ملبوسات، کھلونوں، برتنوں اور گھریلو سامان کی تقریباً 1,200 دکانوں پر مشتمل کثیر المنزلہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button