
خلیج اردو
تہران: اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملے میں اب تک ایرانی قیادت، جوہری ڈھانچے اور شہریوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ حملوں میں ایران کے اہم عسکری اور سائنسی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس سے خطے میں جنگ کے خطرات شدید تر ہو گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا اور سرکاری ذرائع کے مطابق:
-
ایران کے ملٹری چیف علی باقری،
-
پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی،
-
کمانڈر میجر جنرل غلام علی راشد،
-
جوہری سائنسدان فرید عباسی اور محمد مہدی
حملے میں شہید ہو گئے ہیں، جنہیں ایران کی دفاعی اور جوہری قوت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا تھا۔
تہران کے رہائشی علاقوں پر حملے میں بھی متعدد شہری جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔
اسرائیلی حملے کے بعد تہران کا امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ بند کر دیا گیا ہے، اور تمام پروازیں معطل ہیں۔
اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق:
-
حملوں میں درجنوں لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا۔
-
نطنز میں واقع ایران کی جوہری افزودگی کی تنصیب کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔
-
ایران کے اندر درجنوں عسکری اور جوہری اہداف کو تباہ کیا گیا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل نے ایران کی فوجی قیادت کی رہائش گاہوں سمیت چھ بڑی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جو ایران کے دفاعی ڈھانچے کا کلیدی حصہ تھیں۔
ماہرین کے مطابق یہ ایران کے دفاعی نظام پر ایک غیرمعمولی ضرب ہے، اور اگر ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی گئی تو خطے میں ایک ہمہ گیر جنگ کا خطرہ منڈلانے لگے گا۔






