
خلیج اردو
ابوظہبی، 21 جون 2025ء
متحدہ عرب امارات میں روایتی گھریلو استعمال تک محدود اونٹ کے دودھ کو اب ایک جدید سپر فوڈ کے طور پر اپنایا جا رہا ہے جو قدرتی طور پر کم لیکٹوز رکھنے کے ساتھ ساتھ وٹامن سی، آئرن اور پروٹین سے مالا مال ہے۔ ماہرین کے مطابق اس میں امیونوگلوبلینز اور لیکٹوفرن بھی ہوتے ہیں جو قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتے ہیں۔
کچھ طبی تحقیقات نے اشارہ دیا ہے کہ میڈیکل نگرانی میں اونٹ کے دودھ کے استعمال سے آٹو ازم کے شکار بچوں میں سماجی میل جول، حرکی منصوبہ بندی اور رویے میں بہتری آئی ہے۔ ویل تھ میں ہومیوپیتھی پریکٹیشنر ڈاکٹر یاسر شفیع کے بقول، یہ بچوں کے لیے محفوظ ضمنی علاج کا حصہ بن سکتا ہے۔
ماہرینِ غذائیت کہتے ہیں کہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو آکسیڈیٹو اسٹریس کم کر کے نظامِ انہضام کی صحت بہتر بناتے ہیں۔ البین فارمز گروپ کی مارکیٹنگ اینڈ آر اینڈ ڈی ڈائریکٹر میلیانا بوسکووِچ نے بتایا کہ تحقیق جاری ہے اور طویل المعیاد دودھ و پاؤڈر فارمیٹس کے ذریعے برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔
اونٹ کے دودھ نے صحرائی روایات میں صدیوں سے اہم مقام رکھا ہے جہاں بدو اس سے نہ صرف غذائیت حاصل کرتے بلکہ سرد راتوں میں پناہ و نقل و حمل کے لیے اونٹوں پر منحصر رہتے تھے۔ آج یہ دودھ یورپ، امریکا اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی مقبول ہو رہا ہے، جہاں غذائی الرجی اور لیکٹوز عدم برداشت کے شکار افراد اس کے فوائد سے مستفید ہیں۔
سائیکوئسٹ ٹیکنالوجی کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی اونٹ دودھ کی مارکیٹ 2024 میں 15.6 بلین ڈالر تھی اور آنے والے برسوں میں مزید وسعت پائے گی۔ البین فارمز گروپ طویل المعیاد دودھ تیار کرنے والی پہلی کمپنی ہے جو بغیر کسی کیمیکل کے پراسس کرتی ہے اور اس کا شیلف لائف پانچ دن تک ہوتا ہے۔
محکمہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ تازہ دودھ براہ راست لینے سے بیکٹیریا کے خطرات ہیں، لہٰذا اسے 90°C پر پیسچرائز کرنا ضروری ہے۔ پیداواری لاگت زیادہ اور صارفین میں آگاہی کم ہونے کے باوجود، ملکی و بین الاقوامی منڈیوں میں اس کے امکانات روشن نظر آتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں حکومت اور نجی شعبے کی کوششیں اس روایتی مشروب کو جدت اور غذائیت کے امتزاج کے طور پر اجاگر کر رہی ہیں اور مستقبل قریب میں اس کا استعمال مزید بڑھنے کی توقع ہے۔







