
خلیج اردو
اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے مخصوص نشستوں سے متعلق اہم آئینی مقدمے کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف کو دی گئی مخصوص نشستیں کالعدم قرار دے دیں۔ بارہ رکنی بینچ نے سات ججز کی اکثریت سے نظرثانی درخواستیں منظور کر لیں۔ فیصلے کے مطابق مخصوص نشستوں کی نئی تقسیم اب الیکشن کمیشن کرے گا۔
فیصلہ جسٹس امین الدین خان نے سنایا جبکہ ان کے ساتھ جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس شاہد بلال، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی بھی اکثریتی رائے میں شامل تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تحریک انصاف مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں رہی۔
جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی نے اپنی الگ آراء میں الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ پندرہ دن کے اندر تمام 80 امیدواران کے کاغذات نامزدگی کی دوبارہ جانچ کرے۔ عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ بھی بحال کر دیا ہے جس میں سنی اتحاد کونسل کو بھی مخصوص نشستوں کی حقداری نہیں دی گئی تھی۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے 39 مخصوص نشستوں تک نظرثانی کی درخواستیں جزوی طور پر منظور کیں اور کہا کہ وہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کریں گے۔
اس سے قبل مقدمے کی ابتدائی سماعتوں میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے ان درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے کر خود کو بینچ سے علیحدہ کر لیا تھا، جبکہ آج کی سماعت پر جسٹس صلاح الدین پنہور نے کیس سننے سے معذرت کی۔
سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ نے 12 جولائی 2024 کو جسٹس منصور علی شاہ کے تحریر کردہ فیصلے میں تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعتیں تسلیم کرتے ہوئے انہیں مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ 8 ججز کی اکثریت سے سنایا گیا تھا۔
جولائی اور اگست 2024 میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستیں دائر کی تھیں۔ مقدمے کی آج 17ویں سماعت ہوئی، جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ اور متاثرہ خواتین کی جانب سے مخدوم علی خان عدالت میں پیش ہوئے۔ اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے بھی عدالت کی معاونت کی، اور تمام فریقین نے اپنی تحریری معروضات عدالت میں جمع کروائیں۔
عدالت نے مختصر وقفے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا، جب کہ فیصلے کے وقت تحریک انصاف کی قیادت اور وکلاء کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔






