
خلیج اردو
اسلام آباد:پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سفارتی محاذ پر اہم اور مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ترکیہ کے ذریعے ایران کو امریکہ کا اہم پیغام پہنچایا۔
اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ ایران پر امریکی حملے کے بعد پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کیا گیا، اور آرمی چیف کو درخواست کی گئی کہ وہ استنبول میں قیام کے دوران ایران کے ساتھ رابطے کے لیے سفارتی کردار ادا کریں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ پیغام ترکیہ کی قیادت کی مدد سے ایران تک پہنچایا۔
اسحاق ڈار کے مطابق، ایران پر امریکی حملے کے بعد بعض حلقوں میں قیاس آرائیاں ہوئیں کہ کیا پاکستان کوئی واضح مؤقف اپنائے گا؟ انہوں نے کہا کہ "ہم امریکہ سے دوستی رکھتے ہیں، لیکن کسی غلط اقدام کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایران پر حملے کی دفتر خارجہ کے ذریعے مذمت کی، اور وزیراعظم شہباز شریف نے متعدد بار ایرانی صدر سے براہ راست بات کی۔ اس کے علاوہ استنبول میں ایرانی وزیر خارجہ اور ترک قیادت کے ساتھ بھی مشاورتی ملاقاتیں ہوئیں، جن میں امریکی حملے کو ناپسندیدہ اور غیرذمہ دارانہ قرار دیا گیا۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان نے واضح اور دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے ایران کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ ایران نے بھی اس موقع پر واضح کیا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے، لیکن اگر حملہ ہوا تو بھرپور جوابی کارروائی ضرور کریں گے۔
یہ سفارتی سرگرمیاں پاکستان کے ایک متوازن، ذمہ دار اور علاقائی امن کے لیے سرگرم کردار کی عکاس ہیں، جو نہ صرف مسلم دنیا بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہیں۔






