
خلیج اردو
کراچی: آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان نیول اکیڈمی میں 123ویں مڈشپ مین اور 31ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی کمیشننگ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے قومی خودمختاری، میری ٹائم دفاع، مسئلہ کشمیر اور خطے میں بھارتی جارحیت پر واضح مؤقف اختیار کیا۔
فیلڈ مارشل نے پریڈ کا معائنہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نیول اکیڈمی کے کیڈٹس کا پرجوش انداز اور مثالی ٹرن آؤٹ ادارے کے اعلیٰ معیار کا مظہر ہے۔ انہوں نے پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس، خصوصاً دوست ممالک ترکی، بحرین، عراق، فلسطین اور جبوتی کے کیڈٹس کو مبارکباد دی۔
پاک بحریہ کا حصہ بننا اعزاز اور ذمہ داری
آرمی چیف نے کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب پاک بحریہ کا حصہ بننے جا رہے ہیں، جو غیر معمولی عسکری اقدار، مہارت اور پیشہ ورانہ روایات کی حامل فورس ہے۔ انہوں نے انہیں تلقین کی کہ وہ اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھیں کیونکہ بحری جنگ کا میدان تیزی سے بدل رہا ہے۔
بھارتی جارحیت اور پاکستان کا پرعزم جواب
فیلڈ مارشل نے بھارت کے رویے کو متکبرانہ اور جارحانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن اپنی عسکری طاقت اور قوم پرستی کے ذریعے سیاسی فائدے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بہانے پاکستان پر دو بار حملے کیے، تاہم پاکستان کے بھرپور جواب نے بڑے تنازعے سے خطے کو بچایا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دشمن یہ سمجھے کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر حملے کو برداشت کرے گا تو یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہوگی۔ پاکستان اپنی قومی طاقت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے اور ہر حال میں اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا۔
کشمیریوں کی جدوجہد کو سلام
آرمی چیف نے کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جسے دہشت گردی قرار دیتا ہے وہ دراصل ایک جائز اور قانونی آزادی کی جدوجہد ہے، جسے بین الاقوامی قوانین بھی تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کا پرزور حامی ہے۔
قرآنی حوالہ جات سے روحانی استقامت کا اظہار
فیلڈ مارشل نے سورۃ البقرہ (آیت 249) اور سورۃ آل عمران (آیت 54) کے حوالوں سے اس بات پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ صبر کرنے والوں اور بہترین تدبیر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ، ترقی کی راہ جاری
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو مکمل کامیابی تک پہنچائے گا، اور دشمنوں کی تمام کوششوں کے باوجود ملک ترقی کے سفر پر گامزن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے، اور کوئی رکاوٹ اس سفر کو روک نہیں سکتی۔






