ابوظہبی: پولیس نے ان چیزوں کے بارے میں وارننگ جاری کی ہے جو کبھی گاڑیوں میں نہیں چھوڑنی چاہئے ، خاص طور پر جب گرمی کا موسم ہو-
ابوظہبی پولیس نے ڈرائیوروں کو گاڑیوں میں پرفیوم ، گیس سلنڈر ، موبائل فون چارجر اور فون کی بیٹریوں کے علاوہ ہینڈ سینیٹر اور سگریٹ لائٹر چھوڑ نے سے خبردار کیا ہے۔
پولیس نے مزید وضاحت کی کہ ان تمام اشیاء میں آگ لگنے یا پھٹنے کی صلاحیت ہے –
پولیس نے مزید کہا کہ ، "اگر کسی گاڑی کے اندر ، خاص طور پر دن کے وقت ، یہ خطرناک مواد تباہی کا سبب بن سکتا ہے ، اگر وہ براہ راست سورج کی روشنی میں رکھے جائیں تو-
ہینڈ سینیٹائزر:
ہینڈ سینیٹائزرس کی اکثریت میں کلوریکسائڈائن جیسے دیگر فعال دواؤں کے اجزاء کے علاوہ کم از کم 60 فیصد الکحل ہوتا ہے۔
الکحل پر مبنی ہینڈ سینیٹائیسرز (اے بی ایچ ایس) میں ایتھیل الکحل ہوتا ہے ، اگرچہ(اے بی ایچ ایس) سے متعلق آگ لگنے کے واقعات بہت کم ہیں ، لیکن ہینڈ سینیٹائزر کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنا چاہئے-
سگریٹ لائٹر:
گاڑی میں تیز گرمی گرین ہاؤس اثر کے مترادف ہے کیونکہ گاڑی کے اندر کی ہوا گرم ہوتی ہے –
سگریٹ لائٹر زیادہ درجہ حرارت میں پھٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو گاڑی کے اندر شیشے کو نقصان پہنچا سکتا ہے- لائٹر بھی بہت خطرناک ہے –
گیس سلینڈر:
گیس سلینڈر بھی بہت خطرناک ہے- اس سے کار میں آگ لگنے کے خطرات ذیادہ ہوتے ہیں-
پرفیومز:
زیادہ تر پرفیومز آتش گیر ہوتے ہیں لیکن کچھ نہیں بھی ہوتے ہیں یہ سب برانڈ اور ترکیب پر منحصر ہے۔ پرفیومز عام طور پر الکحل یا پانی ہوتا ہے۔ ایتھیل الکحل عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسرے میں کومرن ، بینزیل بینزوٹٹیٹ ، پھلاٹیٹس ، یا یہاں تک کہ موم بھی شامل ہوتی ہے۔
سائنس ڈاٹ کام کے مطابق ، "ایک پرفیوم 78 سے 95 فیصد ایتھل الکحل پر مشتمل ہے” ، جس کا مطلب ہے کہ اس سے آگ لک سکتی ہے –
موبائل فون چارجر اور فون کی بیٹریاں:
مختلف ڈیوائس میں مختلف سطح کے چارجر کی ضرورت ہوتی ہے ، لیکن عام چارجرز سے خطرہ زیادہ ہوتا ہے فون کی بیٹریاں بھی ایک خطرہ بنتی ہیں کیونکہ جب وہ طویل عرصے تک اعلی درجہ حرارت سے دوچار ہوتی ہیں تو وہ خراب ، لیک اور پھٹ سکتی ہیں۔
Source : Gulf News
14 June 2020






