پاکستانی خبریں

پی ٹی وی اینکر ماہ جبین عابد کا سینئر افسر پر ہراسانی کا الزام، متاثرہ خاتون کا وزارت اطلاعات کے رویے پر بھی مایوسی کا اظہار

خلیج اردو
ملتان: 17 جولائی 2025
پی ٹی وی ملتان کی سابق اینکر اور کوآرڈینیٹر کرنٹ افیئرز ماہ جبین عابد نے ایک بار پھر پاکستان ٹیلی ویژن انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ ہراسانی کرنے والے کو تحفظ فراہم کر رہا ہے، جبکہ متاثرہ خاتون کو انصاف کے بجائے مسلسل ہراسانی، سماجی دباؤ اور معاشی تنگی کا سامنا کرنا پڑا۔

ماہ جبین عابد نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں انکشاف کیا کہ 2024 میں پی ٹی وی ملتان کے اُس وقت کے جنرل مینیجر نے ان کے ساتھ غیر پیشہ ورانہ اور نامناسب رویہ اختیار کیا، اور جب انہوں نے اس رویے کی مزاحمت کی تو انہیں اپریل 2024 میں محض ایک فون کال پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت اطلاعات و نشریات اور پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں دائر کی گئی ہراسانی کی شکایت پر انکوائری ہوئی جس میں مذکورہ افسر کو ورک پلیس ہراسمنٹ ایکٹ 2010 کے تحت قصوروار قرار دیا گیا۔ تاہم، اس دوران انہیں سوشل میڈیا پر منظم بدنامی مہم، کردار کشی، آن لائن تعاقب اور نجی زندگی پر حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ماہ جبین نے کہا کہ انہیں معاشرے کے مختلف حلقوں سے سنگین جملے سننے کو ملے جیسے کہ “اس کیس کے بعد کون تم سے شادی کرے گا؟” اور “اس شہر میں تم کیسے نوکری کرو گی؟”۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ سب کچھ صرف ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کا مظہر ہے جو ہراسانی کرنے والوں کو تحفظ دیتا ہے۔

بعدازاں ہراسان افسر نے فیڈرل محتسب برائے انسداد ہراسانی (FOSPAH) سے رجوع کیا جس کے بعد ایک نئی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس نئی انکوائری میں متاثرہ خاتون کا موقف تسلیم کرتے ہوئے یہ تو مانا گیا کہ فون پر برطرفی بد انتظامی تھی، مگر زبانی ہراسانی کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

ماہ جبین عابد نے سوال اٹھایا کہ جب ہراسانی دروازے کے پیچھے ہو تو خواتین اسے کیسے ثابت کریں؟ انہوں نے کہا کہ اگر متاثرہ خاتون کا بولنا بھی کافی نہیں تو پھر اور کیا ثبوت درکار ہے؟

زیادتی کی انتہا یہ ہے کہ مذکورہ شخص کو ایک بار پھر پی ٹی وی ملتان کا جنرل مینیجر تعینات کر دیا گیا ہے، وہی دفتر جہاں وہ ہراسانی کے مرتکب پائے گئے تھے۔ دوسری جانب، ماہ جبین ایک سال تک بے روزگار رہیں اور مالی و جذباتی دباؤ کا سامنا کرتی رہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک شخص کی تقرری کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی ہے جو زبانی ہراسانی کو "حقیقی” ماننے سے انکار کرتا ہے اور متاثرہ کو مسلسل ذہنی اذیت دیتا ہے۔

ماہ جبین نے آخر میں پی ٹی وی اور اس کے تمام کرداروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شرم آنی چاہیے ان تمام افراد پر جو اس شخص کو دوبارہ طاقت میں لانے کا باعث بنے۔

نوٹ: اس خبر کا مواد اینکر ماہ جبین عابد کے ٹویٹ پر مشتمل ہے۔ متعلقہ ادارہ یا افسران اپنا موقف دینا چاہیں تو اس کیلئے خلیج اردو کا پلیٹ فارم حاضر ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button