متحدہ عرب امارات

نئی پالیسی: متحدہ عرب امارات میں میٹھے مشروبات پر ٹیکس اب شکر کی مقدار پر منحصر ہوگا

خلیج اردو
ابوظہبی، 18 جولائی 2025
متحدہ عرب امارات نے صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2026 سے میٹھے مشروبات پر ایکسائز ٹیکس ان کی شکر کی مقدار کے مطابق لاگو ہوگا، نہ کہ ان کے زمرے یا قسم کی بنیاد پر جیسا کہ اس وقت کیا جا رہا ہے۔

وزارتِ خزانہ اور فیڈرل ٹیکس اتھارٹی نے اس فیصلے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد صحت بخش غذاؤں کی حوصلہ افزائی اور مضر صحت اجزاء والے مشروبات کی حوصلہ شکنی ہے۔

فیڈرل ٹیکس اتھارٹی کے مطابق، نئی پالیسی کا اعلان پہلے ہی کر دیا گیا ہے تاکہ مینوفیکچررز کو اپنی مصنوعات کے اجزاء کا جائزہ لینے اور تبدیلیاں متعارف کرانے کے لیے مناسب وقت مل سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف صارفین کو صحت مند مشروبات تک بہتر رسائی حاصل ہوگی بلکہ کارخانوں کو شکر کی مقدار کم کرنے پر بھی ترغیب دی جائے گی۔

اتھارٹی کے مطابق، متعلقہ فریقین کو آگاہی دینے کے لیے خصوصی مہمات بھی چلائی جائیں گی تاکہ وہ اس پالیسی کو بخوبی سمجھ سکیں اور اس پر عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔

ایکسائز ٹیکس کیا ہے؟

ایکسائز ٹیکس ان اشیاء پر عائد کیا جاتا ہے جو عمومی طور پر انسانی صحت یا ماحول کے لیے نقصان دہ سمجھی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد ایسی اشیاء کے استعمال کو کم کرنا اور حاصل شدہ ریونیو کو عوامی مفاد میں استعمال کرنا ہے۔

امارات میں یہ ٹیکس پہلی بار 2017 میں لاگو کیا گیا تھا، جس کے تحت کاربونیٹڈ ڈرنکس، انرجی ڈرنکس اور تمباکو کی مصنوعات شامل تھیں۔ 2019 میں اس کا دائرہ کار بڑھا کر الیکٹرانک سگریٹس اور ان میں استعمال ہونے والے مائع جات اور میٹھے مشروبات تک بڑھا دیا گیا تھا۔

فی الحال لاگو ٹیکس کی شرح:

  • کاربونیٹڈ ڈرنکس: 50 فیصد

  • تمباکو مصنوعات: 100 فیصد

  • انرجی ڈرنکس: 100 فیصد

  • الیکٹرانک سگریٹس: 100 فیصد

  • ان میں استعمال ہونے والے مائع جات: 100 فیصد

  • شکر یا دیگر میٹھے اجزاء والے مشروبات: 50 فیصد

تاہم، 2026 سے شکر یا دیگر میٹھے اجزاء والے مشروبات کو اس عمومی فہرست سے نکال دیا جائے گا اور ان پر ٹیکس شکر کی مقدار کی بنیاد پر مقرر ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button