عالمی خبریں

یو اے ای: ڈیجیٹل دور میں بے وفائی کی نئی تعریف سامنے آگئی۔ چیٹنگ‘ کیا ہے؟ کولڈپلے کنسرٹ واقعے نے نئی بحث چھیڑ دی

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں جہاں مخصوص حالات میں زنا (Adultery) ایک فوجداری جرم ہے، وہاں ’چیٹنگ‘ یا بے وفائی کی تعریف ڈیجیٹل دور میں مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں کولڈپلے کے ایک کنسرٹ کی وائرل ویڈیو نے سوشل میڈیا پر بے وفائی اور ’ایموشنل افیئرز‘ کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

وائرل ویڈیو میں Astronomer کمپنی کے سی ای او اینڈی بائرن کو کمپنی کی ہیومن ریسورس چیف کے ساتھ جَپھی ڈالتے دکھایا گیا، جبکہ دونوں شادی شدہ تھے مگر ایک دوسرے کے شریکِ حیات نہیں۔ اس ویڈیو نے لوگوں کو ’ڈیجیٹل بے وفائی‘، ’ایموشنل چیٹنگ‘ اور ’چیٹنگ کی حدود‘ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔

یو اے ای قانون کے تحت زنا کی تعریف
اراماس انٹرنیشنل لائر کی بانی اور وکیل سمارہ اقبال کے مطابق متحدہ عرب امارات کے پینل کوڈ کے تحت زنا تب فوجداری جرم بنتا ہے جب شادی شدہ شخص شادی سے باہر جسمانی تعلق قائم کرے۔ تاہم، ایسے مقدمات اب تب ہی فائل ہوتے ہیں جب شریک حیات خود شکایت کرے؛ خودکار قانونی کارروائی نہیں کی جاتی۔

سمارا اقبال کے مطابق زنا کے فوجداری ثبوت کے لیے اعتراف، جسمانی شہادت یا عینی گواہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل پیغامات یا رابطے بطور معاون ثبوت استعمال ہو سکتے ہیں مگر ان کی بنیاد پر ازخود سزا نہیں دی جا سکتی۔ مزید برآں، کوئی بھی ڈیجیٹل مواد اگر غیر قانونی طریقے سے حاصل کیا گیا ہو تو وہ ثبوت کے طور پر ناقابل قبول ہو سکتا ہے اور الزامات لگانے والے پر ہتک عزت یا سائبر کرائم کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔

ایموشنل افیئرز اور مائیکرو-چیٹنگ
قانونی دائرے سے ہٹ کر، بہت سے جوڑے اس بات پر الجھن کا شکار ہیں کہ روزمرہ زندگی میں چیٹنگ کی تعریف کیا ہے؟ ڈیٹنگ کوچ اور "ڈیٹنگ ڈے” کی بانی الا رحماتُولینا کے مطابق ڈیجیٹل دور میں بے وفائی صرف جسمانی تعلق تک محدود نہیں رہی بلکہ توجہ، وقت اور جذباتی سرمایہ کاری بھی بے وفائی کا حصہ بن چکی ہے۔

الا کے مطابق بار بار کسی کی سوشل میڈیا اسٹوریز دیکھنا، فلرٹی پیغامات بھیجنا یا مخصوص پوسٹس کو مسلسل لائک کرنا کچھ لوگوں کے لیے بے ضرر ہوسکتا ہے مگر دوسروں کے لیے یہ دھوکہ دہی کی سنگین علامت بن سکتی ہے۔ "چیٹنگ کا اصل مسئلہ اکثر راز داری میں چھپا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنا وقت، توجہ اور جذبات کسی اور پر لگا رہا ہے، تو یہ اس کے شریک حیات کے لیے دھوکہ دہی کے مترادف ہوتا ہے۔”

انہوں نے اس رویے کو "مائیکرو-چیٹنگ” قرار دیا — یعنی سوشل میڈیا پر وہ چھوٹے چھوٹے اعمال جو بظاہر معمولی ہوں مگر دوسرا فریق انہیں بے وفائی سمجھتا ہو۔ الا کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے جوڑوں کو اپنے تعلقات میں واضح حدود کا تعین کرنا چاہیے تاکہ توقعات میں فرق اور رنجش پیدا نہ ہو۔

ڈیجیٹل دور میں خیانت کی نوعیت
نفسیات دان نشویٰ طنطاوی کے مطابق ڈیجیٹل ذرائع نے بے وفائی کو آسان تو بنایا ہے مگر ساتھ ہی اس کی نوعیت بھی بدل دی ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر بے وفائی کے کیسز سوشل میڈیا یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شروع ہوتے ہیں اور وہیں پروان چڑھتے ہیں۔

طنطاوی نے بتایا کہ کبھی کبھی نیت کے بغیر بھی سادہ سی گفتگو جذباتی یا جسمانی تعلقات میں بدل جاتی ہے، اور جب یہ راز فاش ہوتا ہے تو فریقِ ثانی کے لیے یہ ایک جذباتی صدمہ بن جاتا ہے، جس کے اثرات پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) جیسے ہوتے ہیں۔

تھراپی میں متاثرہ جوڑوں کے درمیان اعتماد کی بحالی، واضح حدود کا تعین اور جذباتی اذیت کا ادراک اولین مراحل ہوتے ہیں۔ نشویٰ کے مطابق، "چیٹنگ کی کوئی بھی جواز نہیں بنتی۔ اگر تعلق میں مسائل ہوں تو ان کے اظہار کے صحت مند اور شفاف طریقے موجود ہیں۔”

یہ بحث واضح کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات جیسے ملک میں جہاں قانون بے وفائی کی مخصوص تعریف کرتا ہے، وہاں ڈیجیٹل دور میں لوگوں کے جذباتی رویوں، خفیہ رابطوں اور سماجی توقعات نے ’چیٹنگ‘ کے تصور کو مزید حساس اور ذاتی نوعیت کا بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button