
خلیج اردو
پشاور: خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بغیر بائیکاٹ کرنے والوں کے بھی کامیابی سے منعقد ہوئی اور اس نے صوبے میں امن کے قیام کیلئے دلیرانہ فیصلے کیے ہیں۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ اے پی سی کا بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتیں دراصل امن کی خواہاں نہیں ہیں۔ اے پی سی کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ صوبے میں قیام امن کے لیے بلائی گئی تھی۔ بائیکاٹ کرنے والے بتائیں کہ وہ امن قائم کرنے والوں کے ساتھ ہیں یا بدامنی پھیلانے والوں کے ساتھ؟
انہوں نے کہا کہ گورنر فیصل کریم کنڈی سمیت دیگر بائیکاٹ کرنے والوں میں ایسے دلیرانہ فیصلے کرنے کی سکت نہیں تھی، گورنر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کی عدم موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بائیکاٹ کرنے والی جماعتیں اب کس منہ سے امن اور صوبے کی ترقی کی بات کریں گی؟
بیرسٹر سیف نے کہا کہ اے پی سی خیبرپختونخوا حکومت کی ایک مخلصانہ کوشش تھی جس کا مقصد سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ صوبے میں امن قائم کرنا تھا۔ صوبائی حکومت امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس قومی فریضے میں حکومت کا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ مسئلہ ہے اور اس کا پائیدار حل بھی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنے وسائل سے بڑھ کر خرچ کر رہی ہے مگر وفاقی حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ وفاق صوبائی حکومت کو مضبوط بنانے کے بجائے کمزور کر رہا ہے، دہشت گردی سمیت مختلف شعبوں میں صوبے کے فنڈز دانستہ طور پر روکے گئے ہیں۔ ایسے حساس اور سنگین مسئلے پر سیاست چمکانا نہایت افسوسناک ہے، وفاق کو چاہیے کہ وہ صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کرے اور اسے معاشی طور پر مضبوط بنائے۔






