عالمی خبریں

امریکی صدور کے ساتھ صدر پیوٹن کی ملاقاتوں کی تاریخ کیا کہتی ہے؟

خلیج اردو
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی امریکی صدور کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں ان کے ابتدائی دورِ اقتدار میں ایک معمول کا حصہ تھیں۔ تاہم، 2014 میں یوکرین کے جزیرہ نما کریمیا کے الحاق اور 2016 کے امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کے بعد روس اور مغرب کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی، جس کے نتیجے میں ان ملاقاتوں کی تعداد کم اور ماحول کم خوشگوار ہوتا گیا۔

صدر پیوٹن اور جو بائیڈن کی صرف ایک ملاقات ہوئی، جو جون 2021 میں جنیوا میں ہوئی۔ اس وقت روس یوکرین کی سرحد پر فوجی تعیناتی کر رہا تھا اور امریکہ سائبر حملوں کا الزام عائد کر رہا تھا۔ کریملن نے اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی کو جیل میں ڈال کر احتجاجی مظاہروں کو سختی سے کچل دیا تھا۔ تین گھنٹے طویل ملاقات کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی، دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے مؤقف کو سنا مگر اپنے مؤقف پر قائم رہے۔
اسی سال دسمبر میں دونوں نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ایک بار پھر بات چیت کی، جہاں بائیڈن نے روس کو حملے کی صورت میں پابندیوں کی دھمکی دی، جبکہ پیوٹن نے مطالبہ کیا کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل نہ کیا جائے۔
فروری 2022 میں ایک اور فون کال ہوئی، لیکن یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے دونوں کے درمیان کوئی براہِ راست گفتگو منظرِ عام پر نہیں آئی۔

صدر ٹرمپ اور پیوٹن کی چھ ملاقاتیں ہوئیں، جن میں سب سے یادگار جولائی 2018 کی ہیلسنکی میں ہونے والی ملاقات تھی۔ اس موقع پر ٹرمپ نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بجائے پیوٹن کے مؤقف پر اعتماد ظاہر کیا کہ روس نے امریکی انتخابات میں مداخلت نہیں کی۔
انہوں نے کہا: "مجھے اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر اعتماد ہے، لیکن صدر پیوٹن نے بہت مضبوط انداز میں انکار کیا۔” یہ بیان امریکی خارجہ پالیسی کے روایتی مؤقف کے بالکل برعکس تھا۔

صدر اوباما اور پیوٹن کے درمیان نو ملاقاتیں ہوئیں، جبکہ دمتری میدویدیف کے ساتھ مزید بارہ۔ اوباما نے دو بار روس کا دورہ کیا اور روسی قیادت نے بھی امریکہ کا دورہ کیا۔
میدویدیف کے دور میں روس اور امریکہ کے تعلقات کو ’ری سیٹ‘ کرنے کی کوششیں ہوئیں، جس کی علامت کے طور پر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے 2009 میں روسی ہم منصب کو ایک بڑا بٹن پیش کیا، جس پر غلطی سے ’اوورلوڈ‘ لکھا تھا۔
تاہم 2012 میں پیوٹن کے دوبارہ صدر بننے کے بعد تعلقات میں تناؤ آ گیا، جس کی وجہ کریملن کی جانب سے مغربی مداخلت کے الزامات اور ناقدین کے خلاف کریک ڈاؤن تھا۔
2013 میں اوباما نے ماسکو کا دورہ اس وقت منسوخ کر دیا جب روس نے ایڈورڈ اسنودن کو پناہ دی۔
2014 میں کریمیا کے الحاق اور مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کے بعد امریکہ اور اتحادیوں نے روس پر سخت پابندیاں عائد کر دیں، جس سے تعلقات سرد جنگ کے بعد سب سے نچلے درجے پر پہنچ گئے۔
شام میں 2015 کی روسی مداخلت نے بھی تعلقات کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ اوباما اور پیوٹن کی آخری ملاقات ستمبر 2016 میں چین میں ہوئی۔

**پیوٹن اور جارج ڈبلیو بش**
صدر بش اور پیوٹن کی 28 ملاقاتیں ہوئیں، جن میں رسمی اور غیر رسمی دورے، بین الاقوامی اجلاسوں کی ملاقاتیں شامل تھیں۔
2001 میں اپنی پہلی ملاقات کے بعد بش نے کہا کہ انہوں نے پیوٹن کی آنکھوں میں جھانک کر "ان کی روح کو پہچانا۔”
دونوں نے 2002 میں ایک جوہری معاہدے پر دستخط کیے، جس سے دونوں ممالک کے ہتھیاروں میں بڑی کمی آئی۔
9/11 حملے کے بعد پیوٹن نے سب سے پہلے بش کو فون کر کے حمایت کا یقین دلایا، اور افغانستان میں امریکی کارروائیوں کے لیے وسطی ایشیائی ممالک میں امریکی فوج کی تعیناتی کو قبول کیا۔
پیوٹن نے بش کو "مہذب انسان اور اچھا دوست” قرار دیا۔

صدر پیوٹن کے امریکی صدور کے ساتھ تعلقات وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں، جن میں ابتدائی گرمجوشی سے لے کر شدید کشیدگی تک سب کچھ شامل ہے۔ ان ملاقاتوں سے بین الاقوامی تعلقات کی نزاکت، اور امریکہ و روس کے بدلتے مؤقف کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button