متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں کم کرایے اور زیادہ آپشنز — رہائش کی منتقلی کا بہترین وقت کب ہے؟

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں ہر سال اگست کے مہینے میں کرایے کے معاہدوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ رہائشی کم کرایوں، خالی دستیاب مکانات اور اسکول کی تعطیلات کے دوران آسان منتقلی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

پراپرٹی ماہرین کے مطابق گرمیوں کی چھٹیاں خاص طور پر جولائی اور اگست، کرایہ داروں کے لیے پرکشش ہوتی ہیں کیونکہ بہت سے خاندان گھروں کو خالی کرتے ہیں اور مالکان جلدی کرایہ دار تلاش کرنے کے لیے مسابقتی نرخ پیش کرتے ہیں۔ ایماں پراپرٹیز کے بانی رائف حسن اکری کے مطابق، پچھلے سال 100,000 درہم میں کرائے پر دیا گیا اپارٹمنٹ نیا معاہدہ 115,000 درہم میں ہو سکتا ہے، لیکن کچھ مالکان جلد کرایہ دار ملنے کے لیے اسے 100,000 درہم یا اس سے بھی کم میں دے دیتے ہیں۔

اکری نے کہا کہ اس طرح کے معاہدوں پر کرایہ دار اکثر دو سے تین سال قائم رہتے ہیں تاکہ موجودہ مارکیٹ سے کم کرایہ ادا کرتے رہیں۔ دوسری جانب کچھ لوگ کرایے میں اضافے کا فائدہ لینے کے لیے چند ماہ انتظار کرتے ہیں۔

اسکول کی چھٹیاں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بہت سے لوگ جون میں ملک چھوڑتے ہیں یا نیا گھر ڈھونڈ لیتے ہیں اور اگست یا ستمبر میں منتقل ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ ایک یا دو ماہ کا کرایہ بھی بچا لیتے ہیں۔

اکری نے مزید کہا کہ جنہیں ہر سال یا چھ ماہ میں منتقل ہونا پسند ہے، وہ عموماً فرنشڈ اپارٹمنٹ کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ صرف بیگ پیک کر کے نیا گھر لے سکیں۔ اگست میں منتقلی کے لیے پسندیدہ علاقوں میں ڈیمک ہلز، دبئی ہلز، بزنس بے اور دبئی مرینہ شامل ہیں۔

دی ہارٹ آف یورپ کے سیلز منیجر محمد ہاشم رضا کے مطابق جون سے اگست خاندانوں کی رہائش کی منتقلی کا سب سے مصروف وقت ہے، کیونکہ یہ اسکول کے شیڈول میں خلل ڈالے بغیر منتقل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ صرف گرمیوں 2024 میں 3 لاکھ 72 ہزار سے زیادہ کرایے کے معاہدے دستخط ہوئے، جس سے یہ تاثر غلط ثابت ہوا کہ گرمیوں میں مارکیٹ سست پڑ جاتی ہے۔

رضا کے مطابق اسکول کا آغاز، لیز کا اختتام، اور بیرونِ ملک سے واپسی، تین اہم وجوہات ہیں جن کی وجہ سے خاندان اس موسم میں منتقل ہوتے ہیں۔ اگست کے آخر تک موسم میں ہلکی تبدیلی بھی منتقلی کو آسان بنا دیتی ہے تاکہ سردیوں کا موسم نئے گھر میں گزارا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button