
خلیج اردو
منیلا: فلپائن کے وسطی جزائر کو منگل کی رات آنے والے 6.9 شدت کے زلزلے نے ہلا کر رکھ دیا جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 60 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہیں۔ زلزلے کا مرکز جزیرہ سیبو کے شمالی حصے کے قریب بوگو شہر بتایا گیا جہاں 90 ہزار سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 9 بج کر 59 منٹ پر آیا جس کے بعد 379 سے زائد آفٹر شاکس ریکارڈ کیے گئے۔ صوبائی اسپتال بوگو مریضوں سے بھر گیا جس کے باعث درجنوں زخمیوں کو کھلے آسمان تلے عارضی خیموں میں طبی امداد دی گئی۔ اسپتال عملے نے لاشوں کے بیگز مقامی مردہ خانوں تک منتقل کیے۔
صوبائی گورنر پاملا باری کواترو نے بتایا کہ شدید زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث متعدد مریضوں کو دوسرے شہروں کے اسپتالوں میں بھیجنا پڑا۔ کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا، بوگو شہر میں ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ تباہ ہوا جبکہ بانٹایان جزیرے میں ایک چرچ کا بُرج گر گیا۔
مقامی حکومت نے طبی رضاکاروں سے مدد کی اپیل کی ہے جبکہ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ کئی لوگ ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ بجلی کے تار ٹرپ ہونے سے سیبو اور قریبی جزائر میں بجلی معطل ہوئی تاہم رات گئے بحال کر دی گئی۔
زلزلے سے پیدا ہونے والے خطرات کے باوجود پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر نے بتایا کہ کوئی سونامی خطرہ موجود نہیں۔ فلپائن چونکہ "رِنگ آف فائر” میں واقع ہے، اس لیے یہاں زلزلے معمول کا حصہ ہیں لیکن اس نوعیت کے تباہ کن جھٹکے اچانک آتے ہیں اور پیشگی اندازہ لگانا ممکن نہیں۔






