
خلیج اردو
دبئی میں پیر کی صبح سونے کی قیمتیں نئی تاریخ ساز سطح پر پہنچ گئیں، عالمی منڈی میں تیزی، ممکنہ امریکی شرحِ سود میں کمی اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی نمایاں نظر آئے۔
مکمل خبر
دبئی: عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے بعد دبئی میں بھی سونے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ پیر کی صبح 7 بج کر 45 منٹ پر دبئی میں 24 قیراط سونا 526.50 درہم فی گرام جبکہ 22 قیراط سونا 487.50 درہم فی گرام میں فروخت ہوا۔ عالمی سطح پر سونے کی قیمت ایک فیصد سے زائد اضافے کے بعد اکتوبر میں قائم ہونے والا سابقہ ریکارڈ عبور کرتے ہوئے 4,381 ڈالر فی اونس سے بھی آگے نکل گئی۔
ماہرین کے مطابق عالمی جغرافیائی کشیدگی میں اضافہ اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ عرصے میں شرحِ سود میں مزید کمی کی توقعات سونے کی قیمتوں کو سہارا دے رہی ہیں۔ حالیہ امریکی معاشی اعداد و شمار نے مستقبل کی سمت واضح نہ کی جس کے باعث مارکیٹ میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ 2026 میں دو مرتبہ شرحِ سود میں کمی کی جا سکتی ہے۔ کم شرحِ سود کے ماحول میں سونا اور چاندی جیسی دھاتوں کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
ادھر عالمی سطح پر سیاسی تنازعات نے بھی سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مزید مضبوط کیا ہے۔ امریکا کی جانب سے وینزویلا پر دباؤ میں اضافہ اور یوکرین و روس سے جڑی پیش رفت نے سرمایہ کاروں کو غیر یقینی صورتحال میں سونے کی جانب متوجہ رکھا۔ رواں سال سونا اور چاندی 1979 کے بعد سب سے مضبوط سالانہ کارکردگی کی جانب بڑھ رہے ہیں، جبکہ 2025 میں اب تک سونے کی قیمت میں تقریباً دو تہائی اضافہ ہو چکا ہے۔
دبئی میں دسمبر کے آغاز سے سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یکم دسمبر کو 24 قیراط سونا 511.75 درہم فی گرام تھا جو بڑھتے بڑھتے اب 526.50 درہم تک پہنچ گیا، جبکہ 22 قیراط سونا اسی عرصے میں 473.75 سے بڑھ کر 487.50 درہم فی گرام ہو گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کی مضبوط طلب اور عالمی سطح پر محدود سپلائی نے اس رجحان کو تقویت دی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ برسوں میں بھی سونے کی اہمیت برقرار رہے گی۔ عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ غیر یقینی معاشی اور سیاسی حالات میں سونا پورٹ فولیو کے مجموعی خطرات کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔






