خلیج اردو: گلف نیوز کے ذریعہ پچھلے سال سامنے آنے والے ایک فراڈ کے پیچھے فوڈ اسٹف کمپنی اب خود کٹہرے میں کھڑی ہے۔ عجمان میں مقیم سوہا عارف فوڈ اسٹف ٹریڈنگ کو دبئی کی ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ وہ
برآمدات کرنیوالی بھارت میں قائم مادھو امپیکس کمپنی کو 470،000 درہم ادا کرے۔
مادھو امپیکس کے وکیل ، شوق ال کتھیری نے کہا کہ انہوں نے سوہا عارف فوڈ اسٹف کے خلاف کاروائی کے عمل کا آغاز کردیا ہے جب اس کے مالک نے عدالتی سمن جاری ہونے اور مقامی اخبارات میں شائع ہونے والے نوٹسوں کے ذریعے انھیں 15 دن کے اندر عدالتی حکم کی تعمیل کرنے کے مطالبہ کا کوئی جواب نہیں دیا۔ مغربی ہندوستان کی ریاست گجرات میں واقع مادھو امپیکس نے سوہا عارف کو پچھلے سال اگست میں 12،000 کنٹینرز پیاز کی فراہمی کی جس کی مالیت 100،000 ڈالر اور (درھم367،300) تھے۔
ان سے فراہمی کے 24 گھنٹوں کے اندر ادائیگی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن کوئی ادائیگی نہیں کی گئی۔ اسی طرح تقریبا 50 ایکسپورٹرز نے سوہا عارف کو لاکھوں درہم مالیت کی اشیائے خوردونوش بھیجیں ، جن میں ایک پاکستانی میاں زریاب اور ان کے بڑے بھائی ، چودھری عارف حیاب کمبوہ کی ایچ اینڈ ایم زیڈ گلوبل ورلڈ وائیڈ کمپنی شامل تھی جبکہ ان میں ایک بھائی نے تقریبا تین سال قبل اپنی موت کی جعل سازی کی تھی۔ در حقیقت ، ایچ اینڈ ایم زیڈ گلوبل ورلڈ وائڈ کمپنی کو حیاب نے 19 جولائی،2017 کو شارجہ میں سڑک حادثے میں مبینہ طور پر ‘ہلاک’ ہونے کے تقریبا 14 ماہ بعد ہی لانچ کیا تھا۔ ان کے اس وقتی انتقال پر بہت لوگوں بھی سوگ منایا تھا۔
ایم کیو ایم ٹیلی ویژن ، جو پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی نمائندگی کرنے کا دعوی کرتی ہے ، نے دو روز بعد ایک فیس بک پوسٹ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور دعا کی کہ ان کے "نظریاتی کارکن” کو اللہ تعالی جنت میں اعلی مقام عطا کرے۔ اس پوسٹ کے ساتھ حبیب عارف کی ایک تصویر تھی جس میں اس کے نتھنے میں روئی ٹھونسی ہوئی تھیں اور اس کے جسم پر سفید رنگ کا کفن لپٹا ہوا تھا۔
میاں زریاب اگست 2017 میں اپنے بھائی کو کھونے کے درد کے بارے میں بات کرنے کے لئے فیس بک پر تشریف لائے۔ دونوں پوسٹوں پر غمزدہ ہونے اور مرنے والے فرد کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
جب یہ پتا چلا کہ حیاب مرا نہیں تھا۔ گلف نیوز نے 23 اکتوبر ، 2019 کو ایک رپورٹ شائع کی جس میں یہ بتایا گیا کہ وہ زندہ ہے، اور دیگر تاجروں نے زریاب کے ساتھ ملکر قتل کا فراڈ رچایا۔
لمبی فہرست
ناریل کی فراہمی کرنے والی بیسٹ زیسٹ ایگرو کمپنی نے اپنے 97،412 ڈالر خسارہ، جبکہ شمالی ہندوستان کی ریاست اتر پردیش میں قائم اپیبی نیچرل پروڈکٹ پرائیویٹ لمیٹڈ نے ان دونوں کو 44،000 مالیت ڈالر کا 30 کلو قدرتی شہد کے نقصان بارے بات کی ہے۔
دیگر متاثرین میں شری سدھیو نائیناک جنکا نقصان(چاول کا 93،000 ڈالر) کا ہے۔ ای ایم سی انٹرنیشنل ایکسپورٹ کا نقصان (پیاز کا 14،700ڈالر) جے کے ایکسپورٹ کا نقصان (ناریل کا 39،000)؛ دکاش اوورسیز کا نقصان (کیلے کا 18،071ڈالر) مہکال کا نقصان(پیاز کا 20،034 ڈالر) بنتانگ پرساکا کا نقصان(لکڑی کا تارکول کا 31،041 ڈالر) کے انٹرنیشنل کانقصان (سرخ مرچ کا 35،700 ڈالر) سی وی ٹرائی میٹرا پرسکا کا نقصان (ناریل کا 12،375 ڈالر) اور بھاویہ انٹرپرائزز کا نقصان (چاول کا 17،750ڈالر)ہے۔
گجرات میں بنمون مون فارما ریسرچ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ترون کپور نے بتایا کہ انہوں نے حیاب کی دوسری کمپنی سیا انٹرنیشنل کو 60,900 ڈالر مالیت کا 21 ٹن زیرہ بھیجا تھا۔
برآمد کنندگان نے بتایا کہ پولیس میں شکایت درج کرنے کی کوششوں کے بعد انہوں نے ہار مان لی۔ حکام نے ہمیں عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔ ممبئی میں مقیم وجے روپارن نے کہا کہ ، "بیرون ملک سے طویل عدالتی جنگ میں اترنا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔” انہوں نے کہا کہ ہم نے 130،000 مالیت درہم کی خشک لال مرچیں فراہم کیں۔
اس فراڈ کے بعد اپنے نقصانات کی وصولی کی امید میں متحدہ عرب امارات روانہ ہونے والے روپارن نے کہا کہ ہمارے لئے اپنا مال ضائع کرنا ہمارے لئے چھوٹی بات نہیں اسلیے اب ہم اعلی قانونی قیمتوں پر قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔
تاہم ، مادھو امپیکس نے قانونی راستہ اختیار کیا اور دسمبر 2019 میں اس کا سازگار فیصلہ جیت لیا۔ وکیل شوق الکتھیری نے کہا کہ عدالت نے سوہا عارف کو اگست 2019 میں نو فیصد شرح سود کے علاوہ 105،000 ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ “ہم نے حکم پر عملدرآمد کے لئے کیس دائر کیا اس سال 22 جون کو۔ اس کے بعد سے عدالت نے سوہا عارف کے مالک کو طلب کیا ہے اور حالیہ مہینوں میں اس سلسلے میں مقامی اخبارات میں دو نوٹس بھی شائع کیے لیکن وہ تاحال روپوش ہے حتی کہ زریاب اور حیاب سے متعلق بھی کوئی معلومات نہیں ہیں۔
جوڑی نے کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے
راز افشا ہونے پر دونوں نے کسی بھی غلط حرکت سے انکار کیا ۔ زریاب نے کہا کہ "اس کے خلاف سازش کی جارہی ہے”۔ اس نے اپنے فیس بک پوسٹ کے بارے میں اپنے بھائی کی موت پر سوگ کے سوالوں کو بھی ایک طرف کردیا۔ انہوں نے گلف نیوز کو بتایا ، "یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔”
اپنے دفاع میں ، حیاب نے کہا کہ وہ ‘ زندہ ہیں’ لیکن انہوں نے اس بات کا کوئی پتہ نہیں لگایا کہ ایم کیو ایم نے ان کے بارے میں کیوں پوسٹ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی موت کی تصویر پاکستان میں ان کے تھیٹر کے دنوں کی ہے جہاں اس نے ایک اسٹیج شو میں ایک مردہ شخص کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ یہ اسٹیج کب ہوا تھا۔ انہوں نے پچھلے سال گلف نیوز کو بتایا ، "یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔”
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے قرض دہندگان کا فون اٹھانے سے قاصر ہیں کیوں کہ وہ اپنا موبائل فون کھو بیٹھے ہیں اور متبادل سم کارڈ نہیں ملا کیوں کہ اس کے خلاف کوئی بقایا بل ہے۔ انہوں نے پہلے کہا تھا ، "میرا کسی کو دھوکہ دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔





